غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل اور بھارت گٹھ جوڑ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
غزہ میں جاری صیہونی ریاست کے ظلم و بربریت اور فلسطینیوں کی نسل کشی میں بھارت نے جو مدد کی تھی اُس کا نذرانہ اب وصول کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔
جس میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بڑھانے پر اتفاق اور مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل بھی طے کیا گیا۔
اس موقع پر مودی سرکار کے وزیر برائے کامرس اور صنعت پیوش گوئل اور اسرائیلی ہم منصب نیر برکت نے ٹی او آر پر دستخط کیے۔
جس میں طے کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک تجارت کو فروغ دینے کے لیے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کریں گے اور قواعد میں نرمی برتیں گے۔
دستخط کی تقریب کے بعد دونوں وزرا نے دوطرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا بھارت اور اسرائیل کا مقصد ایک ہی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے بعد سے بھارت کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی پینگوں نے ثابت کردیا کہ مودی سرکار بھی فلسطینیوں کی نسل کشی میں اتنی ہی ملوث رہی ہے جتنا کہ خود اسرائیل رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔