ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے بھرپور ساتھ دیا، دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں بہت گہری اور پرانی ہیں۔ دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پاکستانی حمایت کبھی نہیں بھولے گا، صدر مسعود پزشکیان کا محسن نقوی سے اظہار تشکر

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے غیور عوام کے لیے آیت اللہ خامنہ ای کا سلام لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کی حکومت، عوام، پارلیمان اور مسلح افواج کا تہہ دل سے شکر گزار ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران پاکستان نے ہر سطح پر ایران کا بھرپور ساتھ دیا اور دفاع میں مدد فراہم کی۔

علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان نے اسرائیل کے خلاف بھرپور موقف اپنایا اور دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں بہت گہری اور پرانی ہیں۔ دونوں ممالک کے مفادات مشترکہ ہیں، دینی اور ثقافتی لحاظ سے بھی یہ ممالک قریب ہیں، اور پاکستان کا قومی ترانہ بھی فارسی زبان میں ہے۔

اقتصادی و صنعتی تعلقات

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دو طاقتور علاقائی ممالک ہیں جو خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ صدر مسعود پزیشکیان کے پاکستان کے دورے کے بعد دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کافی کوششیں جاری ہیں۔ چونکہ پاکستان زرعی ملک ہے، اس لیے ایران نے ترجیحی بنیادوں پر پاکستان سے زرعی مصنوعات خریدنے کی ہدایت دی ہے۔ صنعتی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک

علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون کی کوئی حد نہیں ہے، اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے یکساں اور مضبوط عزم رکھتے ہیں۔

خطے کی سیکیورٹی صورتحال

خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قطر اور اسرائیل پر حملوں کے بعد سیکیورٹی ماحول ضرور بدلا ہے، لیکن یہ تمام واقعات کسی ایک ملک کی کارروائی نہیں بلکہ امریکی منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد علاقائی ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ امریکی مطالبات کے سامنے جھک جائیں۔ ایران اور پاکستان پہلے سے جانتے تھے کہ خطے میں کشیدگی کے پیچھے کون ہے، اسی لیے دونوں ممالک نے باہمی مفادات اور علاقائی سلامتی کے لیے بھرپور رابطے رکھے۔

مسلم ممالک کا اتحاد

انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد خطے کے کئی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، یہ سمجھنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ انہیں اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور پاکستان کے ساتھ معاہدوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک کا قبلہ، کعبہ، نبی اور کتاب ایک ہے، اس لیے اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اسلامی انقلاب اور امت مسلمہ

ایرانی رہنما نے کہا کہ اسلامی انقلاب کا بنیادی مقصد امت مسلمہ کے درمیان اتحاد پیدا کرنا اور ان کی اجتماعی قوت کو مضبوط بنانا ہے، اور ایران اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

پاکستان کا ایران کی حمایت میں کردار

انٹرویو میں جب ایران و اسرائیل تنازع کے دوران پاکستان کے کردار کے بارے میں سوال کیا گیا، تو علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان نے سیاسی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایران کی بھرپور حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا ایک بار پھر پاکستان سے اظہار تشکر، صدر مملکت سے سیکریٹری نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ملاقات

پاکستانی عوام نے ایران کے دفاع کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالیں، جسے ایران کبھی فراموش نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر نے ایران کے مؤقف کی حمایت میں مثبت مشاورت فراہم کی، جس پر ایران شکر گزار ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی ایران کے حق میں واضح اور مضبوط مؤقف اختیار کیا، جبکہ پارلیمنٹ نے بھی ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کی۔

ابراہیم معاہدہ اور فلسطین

سوال کیا گیا کہ اگر سعودی عرب ابراہیم معاہدے کا حصہ بنتا ہے، تو ایران بھی اس پر غور کر سکتا ہے؟ کیا پاکستان بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے؟

علی لاریجانی نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ چند سال قبل اسلامی انقلاب کے رہنما نے کہا کہ فلسطینی عوام کو انتخابات کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کس قسم کی حکومت چاہتے ہیں۔ یہ بنیادی اصول ہے۔ اگر وائٹ ہاؤس میں فلسطینی عوام کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جائے تو یہ ان کے فیصلے کو تھوپنے کے مترادف ہے۔ فلسطینی عوام خود فیصلہ کرنے کے اہل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں غزہ جیسے مناظر، ہر طرف تباہی

انہوں نے کہا کہ بیرونی مداخلت کی وجہ سے خطے میں مسائل بڑھ گئے ہیں، عراق میں بھی ایسا ہوا جس سے عوام کو نقصان پہنچا۔ اگر فلسطینی عوام کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے دیا جائے تو یہ بہترین حل ہوگا۔ کسی بھی بیرونی منصوبے کی مخالفت بنیادی ہے کیونکہ ایک دن وائٹ ہاؤس پاکستان کے عوام کے بارے میں بھی فیصلہ کر سکتا اور وہ مطمئن نہیں ہوں گے۔ فلسطین کے حوالے سے بھی یہی اصول صادق ہے۔

غزہ امن معاہدہ

علی لاریجانی نے کہا کہ حال ہی میں غزہ امن معاہدہ طے پایا ہے اور کچھ نکات عملی طور پر نافذ کیے جا سکتے ہیں جیسے قیدیوں کا تبادلہ۔ کچھ نکات فلسطینی عوام کی مدد سے بھی نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اگر اقدامات غلط طریقے سے کیے گئے تو مسائل پیدا ہوں گے۔

غزہ کا انتظام فلسطینی عوام کے پاس ہونا چاہیے اور حفاظتی فورس صرف سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران کو مرکزی جنگی محاذ قرار دے دیا، غزہ ثانوی ترجیح بن گیا

انہوں نے کہا کہ اگر یہ اصول صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے تو عملی معاہدہ ممکن ہے، لیکن اگر نظرانداز کیا گیا تو مسائل پیدا ہوں گے۔ پاکستان، ترکی یا انڈونیشیا کی فوجی فورسز اگر اندرونی مداخلت کے لیے بھیجی جائیں تو لڑائی ہو سکتی ہے۔ لیکن صرف سرحدوں کی حفاظت کے لیے تعینات کی جائیں تو معاہدہ قائم ہو سکتا ہے۔

حماس اور عراق کی مثال

علی لاریجانی نے کہا کہ کچھ نکات، جیسے حماس کو ختم کرنا، غیر عملی ہیں۔ حماس فلسطین اور غزہ کا حصہ ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔ عراق میں امریکی قبضے کے دوران بھی ایسے ہی مسائل پیدا ہوئے تھے۔

ایران اور جوہری پروگرام

علی لاریجانی نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا لیکن جوہری پروگرام پر کام جاری رہے گا۔ ایران ہزاروں ماہرین کے ذریعے اپنے سرحدی تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے۔ اسرائیل ایران کے سائنسدانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، لیکن ایران ہر دباؤ کا مقابلہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا جنگ کے بعد مذاکرات کی بات کر رہا ہے، لیکن اگر جنگ سے مسئلہ حل نہ ہوا تو اب مذاکرات کا مقصد کیا ہے؟ ایران حقیقی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن وہ مذاکرات قبول نہیں کرے گا جس کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہو۔

پاکستان اور افغانستان کے تنازع

علی لاریجانی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع خطے کے لیے خطرہ ہے۔ دہشت گردی کی سرگرمیاں دونوں ممالک اور پورے خطے کے لیے خطرناک ہیں۔ ایران اس مسئلے کے حل کے لیے ہر ممکن ثالثی کرے گا اور امن کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایک بار پھر ایرانی سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے امکانات موجود ہیں، یہ معاملہ آسان نہیں بلکہ پیچیدہ ہے، افغانستان میں بعض گروپس کی تاریخی اور نظریاتی پس منظر کی وجہ سے حل کے لیے گہری سوچ کی ضرورت ہے۔

ایران نے اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا

انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان تعلقات کے امکانات روشن ہیں اور دونوں ممالک کے مفاد میں یہ تعلقات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے گیس پائپ لائن کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنا حصہ مکمل کر لیا ہے اور پاکستانی بھائی بھی آگے بڑھیں گے، تاکہ ایرانی گیس کے ذریعے پاکستانی عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھارت کو پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، لیکن ایران کی ثالثی ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آیت اللہ خامنہ ای ایران پاکستان سپریم لیڈر علی لاریجانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا یت اللہ خامنہ ای ایران پاکستان سپریم لیڈر علی لاریجانی علی لاریجانی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ایران کے دوران پاکستان دونوں ممالک کے کہا کہ پاکستان ایران پاکستان اللہ خامنہ ای فلسطینی عوام یہ بھی پڑھیں اور پاکستان کے حوالے سے سپریم لیڈر پاکستان نے پاکستان کے ایران اور کے درمیان ایران کی فیصلہ کر ایران کے میں بھی عوام کے سکتا ہے کرے گا رہا ہے کے لیے کا حصہ ہوں گے کے بعد

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت