پاکستان کی جیت ہماری جیت ہے، علی لاریجانی کی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹرعلی اردشیرلاریجانی نے اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور حالیہ واقعات میں افواج پاکستان کی بہادری اور کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جیت ہماری جیت ہے۔
ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹرعلی اردشیرلاریجانی نے ملاقات کی، صدر مملکت نے ڈاکٹر لاریجانی کا خیرمقدم کیا اور انہیں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کاچارج سنبھالنے پرمبارک باد دی۔
صدر مملکت نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان متواتر تبادلے دو طرفہ تعلقات میں مثبت رفتار کی عکاسی کرتے ہیں، پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون ضروری اور دونوں ممالک کے شہریوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخ، عقیدے اور ثقافت سے جڑے دیرینہ تعلقات ہیں، صدر نے بھارت کے ساتھ جنگ میں ایران کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے، تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ایران کے درمیان ریل رابطے کو ترجیحی بنیادوں پر مضبوط کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر کنیکٹیویٹی کاروباروں اور مسافروں خصوصاً زائرین کے لیے آسان بنائے گی، ایران-پاکستان گیس پائپ لائن معاملے کا باہمی طور پر قابل عمل حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر لاریجانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی جانب سے صدر زرداری کو نیک خواہشات اور تہنیتی پیغامات پہنچائے۔
ڈاکٹر لاریجانی نے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور حالیہ واقعات میں افواج پاکستان کی بہادری اور کامیابی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیت ہماری جیت ہے۔
ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی صورت حال کے ساتھ سلامتی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
وزیراعظم سے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ملاقات میں دوطرفہ تعاون، پرامن اور خوش حال مستقبل کے لیے مل کر کام کرنے کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اردشیر لاریجانی نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں میں ملاقات کی۔
وزیراعظم نے معزز مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور قریبی برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط اور وسیع کرنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی وسیع اور باہمی طور پر فائدہ مند شعبوں میں پاکستان ایران تعلقات کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے علاقائی مسائل پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا اور مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ایران کی یک جہتی پر اپنی طرف سے اور ملک کی طرف سے شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے پرامن اور خوش حال مستقبل کے لیے ایران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لیے اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان کی حمایت اور پاک-ایران تعلقات مضبوط بنانے کے عزم پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے اسرائیل اور امریکا کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی غیر متزلزل حمایت پر پاکستانی قوم اور قیادت کا شکریہ ادا کیا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی وکالت میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
ملاقات میں طے کیا گیا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں ایک وفد جلد ایران کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، مواصلات اور روابط میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کونسل کے سیکریٹری شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے علی لاریجانی لاریجانی نے پاکستان کی کہ پاکستان پاکستان کے پر زور دیا اور ایران کے درمیان نے کہا کہ ایران کے کے دوران ایران کی حمایت پر کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین