اکثر فرانسیسیوں کی رائے ہے کہ روس ان کے ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، سروے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ 56 فیصد فرانسیسی سمجھتے ہیں کہ فوج کے سربراہ نے ایسے بیانات دے کر غلطی کی ہے اور اس معاملے کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک تازہ سروے کے نتائج کے مطابق، فرانس کے 67 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ روس ان کے ملک پر براہِ راست اور فوجی حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور فرانسیسی فوج کے سربراہ کی اس بارے میں وارننگ بے بنیاد اور ماسکو کی جانب سے خطرے کی مبالغہ آمیز تصویر پیش کرنا ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق، خبر رساں ادارے "نووستی" نے رپورٹ دیا کہ سروے ادارے Elabe کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف سے زیادہ فرانسیسی عوام کا ماننا ہے کہ فرانسیسی مسلح افواج کے سربراہ فابیَن ماندون کو روس کے مبینہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ’’اولاد کی قربانی کے لیے تیار رہنے‘‘ اور ’’معاشی مشکلات برداشت کرنے‘‘ جیسے بیانات نہیں دینے چاہئیں تھے۔ اس ادارے کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع شدہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "56 فیصد فرانسیسی سمجھتے ہیں کہ فوج کے سربراہ نے ایسے بیانات دے کر غلطی کی ہے اور اس معاملے کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔" سروے کے مطابق، 67 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ روس آئندہ برسوں میں براہِ راست اور فوجی طور پر فرانس پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم، 75 فیصد افراد کا خیال ہے کہ روس سائبر حملوں، تخریب کاری، فضائی حدود میں ڈرون بھیجنے اور سوشل میڈیا پر معلومات میں ردوبدل جیسے اقدامات میں ملوث ہوسکتا ہے—وہ الزامات جنہیں ماسکو کئی بار رد کر چکا ہے۔ اس سے قبل ماندون نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانس کو روس کی جانب سے ممکنہ فوجی خطرات کے لیے "سنجیدگی سے" تیار رہنا چاہیے اور فرانسیسی فوج کو ناٹو اور روس کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے بغیر کسی ثبوت کے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ روس نے ’’کھٹملوں کے بحران‘‘ کے بعد فرانس کے داخلی حالات کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ دوسری جانب گزشتہ ہفتے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیون وِٹکاف نے کہا تھا کہ روس کا یورپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی معلومات کے مطابق ماسکو کے پاس یورپی ممالک پر فوجی کارروائی شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، اور روس کی توجہ یوکرین کی صورتِ حال پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "روس کے یورپ پر قریب الوقوع حملے" کی بحث زیادہ تر مغربی میڈیا اور بعض سیاسی حلقوں میں پھیلائی جا رہی ہے جو زمینی حقائق اور روس کے اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ روس کا یورپ یا نیٹو ممالک پر حملہ کرنے کا کسی قسم کا ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق، مغربی ممالک میں روس کی فوجی کارروائیوں کے پھیلاؤ کے بارے میں پھیلائی جانے والی باتیں محض کچھ سیاستدانوں کی اختراع ہیں، جو روس کی پالیسیوں کے برعکس ہیں۔ لاوروف نے زور دیا کہ روس یورپی ممالک سے الجھنا نہیں چاہتا اور یہ الزامات صرف خوف کی فضا پیدا کرنے اور مغربی ملکوں کے عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی چند ماہ قبل مشہور امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت کی تھی کہ روس کا نیٹو ممالک پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایسا کرنا بالکل بے معنی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاستدان ’’روس کے خیالی خطرے‘‘ کا خوف پھیلا کر اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ’’باشعور لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دعوے جعلی اور بے بنیاد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر حملہ کرنے کا کا ارادہ نہیں کے سربراہ ہے کہ روس کے مطابق کے لیے تھا کہ روس کے روس کی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔