ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے ٹیم کی ملکیت چھوڑنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں ٹیم کے موجودہ مالک علی ترین نے اچانک ملکیت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق علی ترین نے کہا کہ ملتان سلطانز ان کی زندگی کا اہم حصہ رہی ہے اور وہ اس ٹیم کے ساتھ اپنی وابستگی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
علی ترین نے کہا کہ انہیں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے پر ہمیشہ ناز رہا،ملتان سلطانز کی فرنچائز ان کے مرحوم انکل عالمگیر ترین کی سوچ اور فیصلے کا تسلسل تھی، اور اسی بنیاد پر انہوں نے ٹیم کو نئی شناخت دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے کھلاڑیوں اور اسٹاف کو یہ تلقین کرتے رہے کہ محنت، نظم و ضبط اور جدوجہد کو اپنا اصول بنائیں،شائقین اچھی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور اگر ٹیم لڑ کر ہارے تو فینز شکست کو بھول جاتے ہیں، مگر مقابلہ کرنے کی روح ختم نہیں ہونی چاہیے۔
علی ترین نے کہا کہ یہی وہ سوچ تھی جس نے معاشی نقصان کے باوجود ٹیم کو کئی میدانوں میں کامیاب بنایا، کیونکہ وہ کبھی پیچھے ہٹنے کے قائل نہیں رہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملتان سلطانز کے حقوق اور مفادات کے لیے انہوں نے ہر فورم پر آواز اٹھائی، خواہ انہیں یہ معلوم تھا کہ وہ ’’ہر کسی کے ساتھ چائے پینے‘‘ کی پوزیشن نہیں رکھتے تھے، وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے، کبھی مصلحت کا لبادہ اوڑھا نہیں اور نہ ہی طویل خاموشی کو اختیار کیا۔
اپنے الوداعی بیان میں علی ترین نے کہا کہ انہوں نے ٹیم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی، نہ کہ اسے گھٹنوں کے بل چلنے دیا ، بعض اوقات شکست قبول کرنا بہتر ہوتا ہے، لیکن خودداری سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے جذباتی انداز میں کہاکہ اب خدا حافظ کہنے کا وقت آگیا ہے، آخر میں انہوں نے شائقینِ کرکٹ سے درخواست کی کہ وہ ٹیم اور نئے مالک کے ساتھ اپنی محبت اور حمایت جاری رکھیں کیونکہ یہ فرنچائز پورے جنوبی پنجاب کی شناخت ہے، وہ اب پی ایس ایل میں ایک سپر فین کی حیثیت سے اپنی ٹیم کا ساتھ دیتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز علی ترین نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔