لاہور؛ بالیاں نوچنے والی دو برقعہ پوش خواتین گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
لاہور:
پولیس نے بالیاں نوچنے والی دو برقعہ پوش خواتین کو اتفاق میٹرک اسٹیشن سے گرفتار کرلیا۔
لاہور پولیس نے بتایا کہ ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن شفقت سرور نے اتفاق میٹرک اسٹیشن سے خواتین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے بتایا کہ خواتین ملزمان میٹرو بس سے خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار تھیں۔
انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ملزمہ کو فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے، متاثرہ خاتون کی نشان دہی پر دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شہربانو نقوی نے بتایا کہ برقعہ پوش خواتین ملزمان میٹرو بس میں سوارخواتین کی بالیاں نقدی اور موبائل چراتی تھیں، گرفتار خواتین سے بالیاں اور چھینی گئی نقدی برآمد کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ چند روز قبل بھی خواتین گینگ میٹرو بس میں خاتون کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار ہو گئی تھیں۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے کہا کہ جرائم کنٹرول کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔