Jasarat News:
2026-06-03@05:22:55 GMT

ایران  کاپاکستان کو بلینک چیک دینے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں اسلام آباد کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ تہران کا دیا ہوابلینک چیک جب چاہے، جیسے چاہے استعمال کرے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان سے اس کے اسٹریٹیجک تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہے ہیں، قطر پر اسرائیلی حملہ ایک کھلی جارحیت تھی جو تہران کے علم میں پہلے ہی آ چکی تھی جبکہ پاکستان بھی خطے میں بگڑتی صورتحال سے مکمل طور پر باخبر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہمیشہ پسِ پردہ اسرائیل کو سہارا دیتا ہے اور تل ابیب کا اصل ہدف خطے کی مزاحمتی قوتوں کو جھکانا ہے،  قطر پر حملے کے بعد خطے کے متعدد اہم ممالک، خصوصاً سعودی عرب نے بھی زمینی حقائق کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کیا ہے،ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا قبلہ ایک ہے، کتاب ایک ہے اور پیغمبر ایک۔ دشمن کی جارحیت مسلمانوں کو مزید متحد کرتی ہے۔”

انہوں نے پاکستانی قیادت کی کھل کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم نے اسرائیلی حملوں کے دوران ایران کو بہترین سیاسی و دفاعی مشورے فراہم کیے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے ایران کے حق میں قرارداد منظور کی۔

فلسطین کے مستقبل سے متعلق سوال پر علی لاریجانی نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ ایران کا نظریہ اصولی اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے، سپریم لیڈر نے برسوں پہلے واضح کر دیا تھا کہ فلسطین کی تقدیر کا فیصلہ صرف فلسطینی عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے غزہ امن منصوبے کے چند نکات خصوصاً قیدیوں کے تبادلے کو قابلِ عمل قرار دیا مگر یہ بھی کہا کہ غزہ کی انتظامیہ صرف غزہ کے عوام کے پاس ہونی چاہیے۔ اگر سرحدی سیکیورٹی کے لیے کوئی فورس بنے تو ایک الگ بات ہے، لیکن غزہ کو غیرمسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش مسائل بڑھا دے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس غزہ اور فلسطین کا حصہ ہے، اور کسی بیرونی تجویز کے تحت اسے نکالنے کی بات حقیقت سے دور اور غیرعملی ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ