الاسکا 64 دن کیلئے سورج سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
الاسکا کے انتہائی شمالی شہر اُتقیاغوِک میں رواں سال کا آخری سورج غروب ہو چکا ہے، جس کے بعد یہ امریکی بستی تقریباً 64 روز تک سورج کی روشنی سے محروم رہے گی۔
آرکٹک سرکل میں شروع ہونے والی قطبی رات کے باعث اب 22 جنوری 2026 تک سورج افق سے اوپر نہیں آئے گا، البتہ شہر مکمل تاریکی میں نہیں ڈوبے گا۔ ہر روز چند گھنٹے کے لیے سیول ٹوائِلائٹ کی ہلکی نیلی روشنی دکھائی دیتی رہے گی، جو عام طور پر فجر سے قبل نظر آتی ہے۔
زمین کے محوری جھکاؤ کے باعث اس عرصے میں سورج کی شعاعیں اُتقیاغوِک تک نہیں پہنچ پاتیں۔ فیئربینکس سے تقریباً 500 میل شمال مغرب میں واقع اس شہر کی آبادی لگ بھگ 4,400 ہے، جبکہ اس کے علاقے میں ایسے تاریخی آثار بھی ملتے ہیں جو 500 عیسوی کی تہذیب سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 18 نومبر کو سورج غروب ہونے کے بعد اب شہر شدید سرد اور تاریک موسم میں داخل ہو گیا ہے۔ سورج کی روشنی نہ ملنے کے باعث آرکٹک خطے میں درجہ حرارت تیزی سے گر جاتا ہے اور موسم انتہائی سخت ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قطبی رات کا یہ طویل دور قطبی بھنور کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سورج نہ ہونے کی وجہ سے ٹروپوسفیئر کے اوپر موجود فضا شدید ٹھنڈی ہو جاتی ہے، اور کبھی کبھار یہ برفانی ہوائیں اسٹریٹوسفیئر سے نیچے اتر کر امریکا کے دیگر علاقوں تک پھیل جاتی ہیں، جس سے سخت سردی اور برف باری کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس طرح سردیوں میں اُتقیاغوِک کے 60 سے زائد دن تاریکی میں گزرتے ہیں، وہیں گرمیوں میں صورتحال بالکل برعکس ہوتی ہے۔ گرم موسم میں یہاں تقریباً تین ماہ تک سورج غروب نہیں ہوتا اور شہر 84 دن تک مسلسل روشنی میں نہاتا رہتا ہے۔ اسی دوران یہاں امریکا کی سب سے شمالی امریکن فٹبال ٹیم، بیرو ہائی اسکول، اپنے ہوم میچز بھی کھیلتی ہے۔
شہر میں اگلا طلوعِ آفتاب 26 جنوری 2026 کو دوپہر 1:23 بجے متوقع ہے، جب دو ماہ طویل تاریکی کا یہ مرحلہ اختتام پذیر ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔