خیبر پختونخوا میں کامیاب کارروائیاں؛ دہشتگردوں سے امریکی اور نیٹو افواج کا استعمال شدہ اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کا استعمال شدہ اسلحہ برآمد کیا گیا، بتایا گیا ہےکہ دہشتگردوں سے ایم 4، ایم 16 اور دیگر خود کار جدید اسلحہ، نائٹ وژن گاگلز اور دیگر جدید آلات بھی برآمد ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلحے میں امریکی فوج اور نیٹو کے زیر استعمال اعلیٰ کوالٹی کا دھماکا خیز مواد اور تاریں بھی شامل ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخواہ کی ملاقات
ذرائع کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے وقت یہ اسلحہ چھوڑ دیا گیا تھا، امریکی ہتھیاروں کو افغان طالبان نے فتنہ الخوارج کو پاکستان میں قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اور نیٹو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔