Express News:
2026-07-24@01:58:15 GMT

لازوال عشق: ’اب یہ ترکی کو بدنام کروائیں گی‘

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

سوشل میڈیا ویڈیو پلیٹ فارم پر نشر ہونے والے متنازع شو لازوال عشق کی تشہیر پر ایک بار پھر عائشہ عمر کو صارفین کی شدید تنقید کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عائشہ عمر نے متنازع شو لازوال عشق کے حوالے سے ہونے والی تنقید کے بعد اس پروگرام کے حوالے سے معلومات شیئر کیں اور بتایا کہ یہ ترک پرڈیوسرز کی پیش کش ہے مگر اسے پاکستانی ناظرین کیلیے بنایا جارہا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس پروگرام میں حصہ لینے والی لڑکیوں کے سونے کیلیے علیحدہ کمرے مختص کیے گئے ہیں۔

عائشہ عمر نے لکھا کہ ’لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن یا شو نہیں اور نہ ہی اس پروگرام پر کسی کورٹ کی طرف سے پابندی لگائی گئی ہے، یہ پاکستانی  اور اردو بولنے یا سمجھنے والے ناظرین کیلیے بنایا جانے والا ایک شو ہے جسے کسی چینل نہیں بلکہ یوٹیوب پر نشر کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’یہ ایک ریئلٹی شو ہے جس میں سیکھنے اور آپس میں گفتگو کرنے کے طریقوں، اپنے ساتھی کے ساتھ تعلقات اور سچی محبت کی تلاش کے حوالے سے چیزیں سکھائی جارہی ہیں‘۔

عائشہ عمر نے لکھا کہ اس پروگرام کو کسی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس یا پروڈیوسر نے تخلیق نہیں کیا البتہ یہ ترکش پروڈکشن ہے اور وہاں کے ایک بڑے پروڈکشن ہاؤس نے پروگرام بنایا ہے، جس نے یہ شو نہیں دیکھا اُس نے اپنے خیالات از خود پیدا کرلیے ہیں۔

پروگرام کی میزبان نے لکھا کہ لازوال عشق کے گھر میں آنے والی لڑکیوں کے رہنے اور سونے کیلیے علیحدہ کمرے ہیں جبکہ مرد بھی الگ کمروں میں سوتے اور علیحدہ ہی رہتے ہیں‘۔

عائشہ عمر کے اس پیغام کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ایک بار انہیں پھر سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اداکارہ خود بچنے کیلیے اب ترکیہ کو بدنام کررہی ہیں۔

ایک صارف مانو بٹ نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’عیب چھپانے کیلیے کمیونیکیشن کا نام اچھا دیا ہے‘۔ ڈی جی زبیر نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ اب ترکیہ کو گندا کروائیں گی‘۔

بشریٰ نے لکھا کہ اگر ترکیہ کا پروگرام بھی ہے تو پاکستانی اداکاروں اور اس میں حصہ لینے والوں کو اپنی اخلاقی اقدار کو دیکھنا اور اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لازوال عشق اس پروگرام نے لکھا کہ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی