پاکستان کے پہلے ڈیٹنگ رئیلٹی شو ’لازوال عشق‘ کی میزبانی کرنے والی اداکارہ عائشہ عمر حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ شو یوٹیوب پر نشر کیا جا رہا ہے اس کی ریکارڈنگ ترکی کے ایک ولا میں کی گئی ہے۔ شو میں پاکستانی خواتین و مرد امیدوار شامل ہیں جو ایک ہی رہائش گاہ میں وقت گزارتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

اس فارمیٹ کی وجہ سے پاکستان میں شدید عوامی ردِ عمل سامنے آیا ہے، اس پر وضاحت دیتے ہوئے عائشہ عمر نے کہا ہے کہ ’لازوال عشق‘ پاکستانی پروڈکشن نہیں بلکہ ترکی کی ایک بڑی پروڈکشن کمپنی نے اسے تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہم اپنی بیٹیوں کو ڈیٹنگ سکھا رہے ہیں؟‘ فضا علی کی ’لازوال عشق‘ پر کڑی تنقید

ان کا کہنا تھا کہ ’لازوال عشق پاکستانی پروڈکشن نہیں ہے اور نہ ہی اسے ہماری عدالت نے بین کیا ہے۔ یہ پاکستانی شو نہیں ہے، لیکن اس کا ناظرین میں پاکستانی لوگ شامل ہیں، اُن میں وہ لوگ بھی ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں رہتے ہیں اور اُردو سمجھتے یا بولتے ہیں‘۔

اداکارہ نے کہا کہ ’یہ ایک اُردو زبان کا رئیلٹی شو ہے جس میں سکھایا جاتا ہے کہ بات چیت کیسے کی جائے، ہم عمر افراد اور پارٹنرز کے ساتھ تعلقات کیسے بنائے جائیں، اور شاید حقیقی محبت بھی مل جائے یہ سب بالغ اور رضامند افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے کبھی بھی کسی ٹی وی چینل پر نشر کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ کوئی پاکستانی پروڈکشن ہاؤس اس میں شامل نہیں تھا۔ یہ ترکی کی سب سے بڑی پروڈکشن کمپنیوں میں سے ایک نے بنایا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے یہ شو نہیں دیکھا اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، انہیں بتا دوں کہ خواتین اور مرد امیدواروں کے لیے سونے اور تیار ہونے کے لیے علیحدہ جگہیں مختص ہیں‘۔

اداکارہ کے اس وضاحتی موقف کے باوجود سوشل میڈیا صارفین نے ان پر شو کے ’غیر اخلاقی‘ تصور کا دفاع کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ کئی صارفین نے الزام لگایا کہ پروڈیوسرز پاکستانی ثقافت پر بیرونی طرز کا مواد مسلط کر رہے ہیں، جبکہ کچھ نے عائشہ عمر کو ایک ’سستے شو‘ کی تشہیر کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ بعض تبصروں میں کہا گیا کہ وہ اس شو کا دفاع ایسے کر رہی ہیں جیسے یہ کوئی ’بہترین یا مذہبی نوعیت‘ کا پروگرام ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عائشہ عمر لازوال عشق لازوال عشق پر پابندی لازوال عشق تنقید.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لازوال عشق لازوال عشق پر پابندی لازوال عشق تنقید

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ