مشہور پاکستانی ڈیجیٹل کریئٹر اذلان شاہ کی مبینہ ’دوسری شادی‘ کا دعویٰ بالآخر ایک پبلسٹی اسٹنٹ نکلا، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔حال ہی میں اذلان نے انسٹاگرام پرپیغام جاری کیا کہ وہ دوبارہ شادی کر رہے ہیں اور ان کی اہلیہ نے اس کی اجازت بھی دے دی ہے، اس بیان نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی اور صارفین نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔بعد ازاں اذلان نے ایک وضاحتی ویڈیو میں اعتراف کیا کہ یہ دوسری شادی نہیں بلکہ وہ اپنی ہی اہلیہ وریشہ سے دوبارہ نکاح کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اعلان کو مذاق سمجھا، کچھ نے سخت زبان استعمال کی، جبکہ بہت سے صارفین نے طنزیہ تبصرے کیے۔ان کے بیان پر ان کی اہلیہ نے تصدیق کی کہ چونکہ ان کی شادی کی تیسری سالگرہ قریب ہے، اس لیے وہ دوبارہ نکاح کر رہے ہیں۔اہلیہ کا کہنا تھا کہ اذلان کے اعلان کا انداز غلط تھا، جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، اور یہ تاثر دینا مناسب نہیں تھا کہ اذلان کسی اور سے شادی کر رہے ہیں۔صارفین نے اس پورے معاملے کو ’سستا پبلسٹی اسٹنٹ‘ قرار دیا، ایک صارف نے لکھا کہ وہ دونوں پسندیدہ تھے مگر انہوں نے بہت سستا طریقہ اپنایا، ایک اور نے طنز کیا کہ جب ویوز کم ہو جائیں تو جعلی شادی کا ڈرامہ شروع کر دیتے ہیں، جبکہ ایک صارف کے مطابق اسے ’کونٹینٹ‘ کہنا افسوسناک ہے،یہ محض شہرت کی خواہش ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کر رہے ہیں صارفین نے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی