فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں شادی کرنے والی سابقہ سکھ خاتون کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر عائد رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھا ہے۔

جسٹس فاروق حیدر نے سابق ایم پی اے مہندر پال کی درخواست پر بطور اعتراض کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ فوجداری کارروائی کروانا چاہتے ہیں تو سیشن کورٹ سے رجوع کریں۔ رجسٹرار آفس نے بھی فوجداری کارروائی کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع نہ کرنے کا اعتراض لگایا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کا پولیس کو خاتون نور بی بی کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

درخواست کے مطابق خاتون نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور نکاح کیا ہے، پولیس حکام کے پاس درخواست گزار کے گھر چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں۔

عدالت میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں مسلمان ہونے والی بھارتی خاتون غیرقانونی طور پر مقیم ہے، خاتون نے یاتری ویزے کا غلط استعمال کیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ شبہ ہے بھارتی خاتون کے خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلقات ہیں، کریمنل ریکارڈ کے باوجود بھارتی ایجنسیوں نے خاتون کو سیکیورٹی کلیئرنس دی۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت تفتیش کے لیے بھارتی خاتون کو ریاستی اداروں کے حوالے کرے، خاتون کا ویزا 5 نومبر کے بعد غیر قانونی ہو چکا ہے اس لیے انہیں ڈی پورٹ کرنے کا حکم دیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: خاتون کو

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا