ٹک ٹاک نے جدید اے آئی کنٹرولز اور نئے تعلیمی ٹولز متعارف کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے متعلق صارفین کے تجربے کو مزید شفاف، بامقصد اور قابلِ فہم بنانے کے لیے متعدد اہم اپ ڈیٹس متعارف کر دی ہیں۔
اس حوالے سے ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال کی جائے تو نہ صرف تخلیقی اظہار کو نئی جہت دیتی ہے بلکہ مواد کی تلاش اور آن لائن حفاظت کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق تازہ اپ ڈیٹس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ صارفین کو اے آئی سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے مزید واضح معلومات اور بہتر کنٹرول فراہم کیا جائے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنا رشتہ اپنی ترجیحات کے مطابق طے کر سکیں۔ انہی تبدیلیوں کے تحت ایک نیا فیچر متعارف کیا جا رہا ہے جس کا تعلق براہِ راست اے آئی ویڈیوز سے ہے۔
جلد ہی ٹک ٹاک کے “منیج ٹاپکس” سیکشن میں یہ فیچر تجرباتی طور پر دستیاب ہوگا، جس کے ذریعے صارفین اس بات کا تعین کر سکیں گے کہ ان کی “فار یو” فیڈ میں اے آئی سے تخلیق شدہ مواد کس حد تک دکھائی دے۔ جو لوگ اے آئی ویڈیوز میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، وہ اس قسم کے مواد کی مقدار میں اضافہ کر سکیں گے، جبکہ ایسے صارفین جو ان ویڈیوز سے گریز کرنا چاہتے ہیں، اس کی نمائندگی کم کر سکتے ہیں۔ یہ کنٹرول دراصل اسی سلسلے کا حصہ ہے جس کے تحت ٹک ٹاک صارفین کو اپنی سفارشات کو ذاتی پسند کے مطابق بنانے کے مزید مواقع فراہم کر رہا ہے۔
شفافیت کو بڑھانے کے لیے ٹک ٹاک نے اپنے اے آئی لیبلنگ نظام کو بھی مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت پلیٹ فارم پالیسی کے تحت مختلف طریقوں سے اے آئی ویڈیوز کی نشاندہی کی جاتی ہے، جن میں تخلیق کاروں کے اپنے لیبل، اے آئی ڈیٹیکشن ماڈلز اور C2PA Content Credentials جیسے سسٹمز شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اب تک ایک ارب تیس کروڑ سے زیادہ ویڈیوز پر اے آئی لیبل لگائے جا چکے ہیں۔
تاہم، اس عمل کو مزید قابلِ اعتماد بنانے کے لیے ٹک ٹاک اب ایک نئے ٹول — “نان ویسبل واٹر مارکنگ” — کا تجربہ کر رہا ہے۔ یہ ایسے واٹر مارکس ہوں گے جو صارفین کی نظروں سے اوجھل رہیں گے مگر ٹک ٹاک کے خودکار سسٹمز انہیں باآسانی پڑھ سکیں گے، جس کے باعث ان کا ہٹایا جانا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔ یہ واٹر مارکس ویڈیوز کی ایڈیٹنگ یا ری پوسٹنگ کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، جس سے اے آئی مواد کی شناخت مزید مستحکم اور دیرپا شکل اختیار کر لیتی ہے۔
کمپنی جلد ہی اپنے اے آئی ایڈیٹر پرو سمیت مختلف تخلیقی ٹولز سے بنائی جانے والی ویڈیوز کے ساتھ ساتھ C2PA Content Credentials کے حامل مواد میں بھی یہ غیر مرئی واٹر مارکس شامل کرنے کا آغاز کرے گی، اور یہ سلسلہ آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار لاگو ہوگا۔
ٹک ٹاک نے عالمی سطح پر اے آئی سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ کمپنی نے 20 لاکھ ڈالر مالیت کا نیا “اے آئی لٹریسی فنڈ” قائم کیا ہے، جس کے ذریعے غیر منافع بخش تنظیموں اور ماہرین کو معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس فنڈ کا مقصد ایسے تعلیمی پروگرام تیار کروانا ہے جو صارفین کو اے آئی ٹیکنالوجی کے کام کرنے کے اصول، اے آئی سے تیار شدہ مواد کی پہچان اور ذمہ دارانہ و محفوظ استعمال کے طریقوں سے متعلق بہتر سمجھ بوجھ فراہم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی سے ٹک ٹاک نے کے مطابق مواد کی کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔