WE News:
2026-07-24@08:23:50 GMT

اوگرا نے گیس کے نرخوں میں کمی کی منظوری دے دی

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

اوگرا نے گیس کے نرخوں میں کمی کی منظوری دے دی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کو ملک بھر کے صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 3 سے 8 فیصد تک کمی کی منظوری دی جس کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کے کم گیس پر چلنے والے سستے گیزر، سخت سردی میں بڑی نعمت

اوگرا کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی ریونیو ضرورت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس طرح سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے نرخوں میں بالترتیب 8 اور 3 فیصد کی کمی کا امکان ہے۔

مزید پڑھیے: گیس کی عدم موجودگی میں گیزر بند، پانی کیسے کریں گرم؟

اوگرا کا کہنا ہے کہ کمی کی منظوری ریونیو کی جانچ پڑتال، لاگت اور آمدنی کے مؤثر انتظام کے بعد دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے موخر شدہ کارگو کا اثر صارفین کے فائدے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ہدایات کے تحت سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے 13,565 ملین روپے اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے لیے 47,315 ملین روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو گیس کی گزشتہ کمی یا سرکلر قرض کی صورتحال سے متعلق ہے۔

مزید پڑھیں: خیرپور میں گیس کے نئے ذخائر دریافت، توانائی ضروریات پوری کرنے میں زبردست معاونت کی توقع

اس کے ساتھ ہی اوگرا نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ کٹیگریز کے مطابق گیس فروخت کی قیمتوں کے حوالے سے مشورہ دیں۔ جب تک نئی ہدایات جاری نہیں ہوتیں موجودہ نرخ نافذ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوگرا ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل) گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی قیمتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوگرا ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی قیمتیں لمیٹڈ کے کے لیے گیس کی

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ