اوگرا نے گیس کے نرخوں میں کمی کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کو ملک بھر کے صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں 3 سے 8 فیصد تک کمی کی منظوری دی جس کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ کے کم گیس پر چلنے والے سستے گیزر، سخت سردی میں بڑی نعمت
اوگرا کے مطابق مالی سال 2025-26 کے لیے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی ریونیو ضرورت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اس طرح سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے نرخوں میں بالترتیب 8 اور 3 فیصد کی کمی کا امکان ہے۔
مزید پڑھیے: گیس کی عدم موجودگی میں گیزر بند، پانی کیسے کریں گرم؟
اوگرا کا کہنا ہے کہ کمی کی منظوری ریونیو کی جانچ پڑتال، لاگت اور آمدنی کے مؤثر انتظام کے بعد دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے موخر شدہ کارگو کا اثر صارفین کے فائدے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ہدایات کے تحت سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے 13,565 ملین روپے اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے لیے 47,315 ملین روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو گیس کی گزشتہ کمی یا سرکلر قرض کی صورتحال سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: خیرپور میں گیس کے نئے ذخائر دریافت، توانائی ضروریات پوری کرنے میں زبردست معاونت کی توقع
اس کے ساتھ ہی اوگرا نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ کٹیگریز کے مطابق گیس فروخت کی قیمتوں کے حوالے سے مشورہ دیں۔ جب تک نئی ہدایات جاری نہیں ہوتیں موجودہ نرخ نافذ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوگرا ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل) گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی قیمتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوگرا ایس ایس جی سی ایس این جی پی ایل گیس کی قیمتوں میں کمی گیس کی قیمتیں لمیٹڈ کے کے لیے گیس کی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔