جنوبی کوریا میں آن لائن جنسی جرائم کا سب سے بڑا گروہ پکڑا گیا؛ ملزم کو عمر قید
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
جنوبی کوریا کی عدالت نے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے آن لائن جنسی استحصال کے کیس میں ملوث کم نوک وان کو عمر قید کی سزا سنادی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کم نوک وان نے خود کو پادری کہتے ہوئے ایک پیرامیڈ (MLM) اسٹائل کا نیٹ ورک بنایا اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کر عریاں، ناجائز اور غیرقانونی مواد تیار کرانے پر مجبور کرتا تھا۔
33 سالہ کم نوک وان ایک منظم جنسی جرائم کے گروہ "ویجلنٹیز" کا سرغنہ تھا۔ اس کام کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلیگرام کو استعمال کیا اور صارفین کو اپنے شکنجے میں جکڑا۔
وہ ٹیلی گرام پر ایسے مرد تلاش کرتا جو ڈیپ فیک یا غیرقانونی تصاویر بنانے میں دلچسپی رکھتے اور ایسی خواتین سے رابطہ کرتا جو جنسی تجسس کا اظہار کرتی تھیں۔
بعد ازاں وہ انھیں ذاتی معلومات افشا کرنے یا پولیس کو رپورٹ کرنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتا تھا۔
اس نے مئی 2020 سے جنوری 2025 تک 261 افراد کو نشانہ بنایا۔ یہ جنوبی کوریا میں سائبر جنسی استحصال کے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
عدالت کے مطابق ملزم نے بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز بنائیں اور پھیلائیں، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی اور مرد و خواتین کو بلیک میل کرکے ٹیلیگرام گروپس میں لایا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے سیکڑوں چیٹ رومز میں جنسی استحصالی مواد چلا کر بعض متاثرین کو خودکشی پر اکسانے یا خود کو نقصان پہنچانے پر مجبور کیا۔
علاوہ ازیں سفاک ملزم نے متاثرین سے گھنٹہ وار رپورٹیں اور معافی نامے لکھوائے جس کی بنیاد پر کم از کم 2,000 سے زائد استحصالی میڈیا مواد تیار کیا۔
پولیس کے مطابق جنسی درندہ کِم نوک وان تقریباً 453 ٹیلیگرام چینلز میں سرگرم رہا جن میں سے 60 چیٹ رومز وہ خود چلاتا تھا۔
یہ کیس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پہلی بار ٹیلیگرام نے جنوبی کورین پولیس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے جرم سے متعلق ڈیٹا فراہم کیا، جس سے ملزم کی گرفتاری ممکن ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوک وان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔