Islam Times:
2026-07-24@07:18:11 GMT

امریکی ڈالروں سے نسل کشی

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

امریکی ڈالروں سے نسل کشی

اسلام ٹائمز: اگرچہ وائٹ ہاوس میں انجام پانے والی یہ ملاقات بظاہر مقامی اتحاد کی عکاسی کرتی تھی لیکن اس نے ایک تاریخی لمحہ ایجاد کر دیا۔ وائٹ ہاوس کے اوول ہاوس میں پہلی بار غزہ میں غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا جس نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر مبنی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا۔ زہران ممدانی نے کہا: "میں نے غزہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری نسل کشی پر بات کی ہے اور ہماری حکومت کی جانب سے اس کی مالی فنڈنگ کی بات بھی کی ہے۔" اس نے مزید کہا: "ہم یہ دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں کہ ہمارے ٹیکس نہ ختم ہونے والی جنگوں پر خرچ ہوتے ہیں، ہمیں بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔" ٹرمپ جو اب تک سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف تمام قراردادوں کو ویٹو کرتا آیا ہے ایک تنقید کرنے والے میئر سے روبرو ہے اور یہ مسئلہ اندرونی تناو میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔ تحریر: رسول قبادی
 
ایسے وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ بدستور اپنی فرقہ وارانہ، مداخلت آمیز اور غاصب صیہونی رژیم کی غیر مشروط حمایت پر مبنی پالیسیوں کے سبب پہچانا جاتا ہے، وائٹ ہاوس کے اوول روم میں اس کی نیویارک کے نو منتخب میئر زہران ممدانی سے اس کی ملاقات عصر حاضر کے گہری تضادات کا منظر پیش کیا ہے۔ یہ ملاقات جو نیویارک کے متلاطم بلدیہ الیکشن میں زہران ممدان کی کامیابی کے تقریباً تین ہفتے بعد انجام پائی ہے، بظاہر مفاہمت کی ایک کوشش تھی لیکن اصل میں ٹرمپ کے امریکہ کی یاددہانی ہے: ایسی جگہ جہاں شخصی دھمکیوں نے معقول پالیسیوں کی جگہ لے رکھی ہے اور اندرونی منتقدین کا منہ ظاہری سفارتی مسکراہٹوں کے ذریعے بند کروا دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ہاتھ ملانا تبدیلی کی علامت ہے یا مقامی اور قومی امور پر ٹرمپ کی تسلط پسندی کی محض پردہ پوشی ہے؟
 
ڈونلڈ ٹرمپ، جس کا ماضی دوسروں پر کیچڑ اچھالنے اور نسل پرستانہ اور نظریاتی تعصب ظاہر کرنے سے بھرا پڑا ہے، نے الیکشن سے پہلے زہران ممدانی کو "بائیں بازو کا انتہاپسند پاگل"، "کمیونسٹ" اور "یہودیوں سے متنفر" جیسے خطابات سے نوازا تھا۔ یہ وہ الزامات ہیں جو عام طور پر منتقدین کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دائیں بازو کے انتہاپسند حلقوں کو اشتعال دلانے کے لیے اپنائی گئی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ بہرحال، ٹرمپ نے اس ملاقات میں مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ زہران ممدانی کی "الیکشن میں کامیابی" کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "ہمارے درمیان میرے تصور سے کہیں زیادہ مشترکہ چیزیں پائی جاتی تھیں۔ ہم میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ہم دونوں اپنے اس پسندیدہ شہر کا انتظام اچھے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔" زہران ممدانی، جس نے کچھ دن پہلے ٹرمپ کو فاشسٹ کہا تھا، نے بھی ملاقات کو مفید قرار دیا۔
 
زہران ممدانی نے کہا: "یہ ملاقات نیویارک سے مشترکہ عشق اور تعریف اور نیویارک کے شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت کی بنیاد پر انجام پائی ہے۔" ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے زہران ممدانی کے بازو پر تھپکی لگانے اور اس سے ہنسی مذاق کرنے کا منظر ایسے سیاست دانوں کی تصویر پیش کرتا ہے جو بظاہر اختلافات کو بھلا دیتے ہیں۔ ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا: "مجھے انہوں نے ایک ڈکٹیٹر سے بھی کہیں زیادہ برا کہا ہے، لہذا اس قدر توہین آمیز نہیں ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ایک ساتھ کام کرنے کے بعد اس کی سوچ تبدیل ہو جائے گی۔" جب ایک صحافی نے ممدانی سے ٹرمپ کو فاشسٹ کہنے کے بارے میں سوال کیا تو ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا: "کوئی بات نہیں، صرف "ہاں" کہہ سکتے ہو۔"
 
اس ملاقات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہمیں اس حالیہ الیکشن پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جس نے نیویارک کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور دھمکیاں دینے کے میدان میں تبدیل کر دیا تھا۔ زہران ممدانی جو مسلمان اور سوشلسٹ امیدوار تھے نے 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے اینڈرو کومو اور کارٹیس اسلیوا جیسے مدمقابل حریفوں کو شکست دے دی۔ یہ فتح بیس لاکھ ووٹرز کی ریکارڈ شرکت سے حاصل ہوئی جس نے زہران ممدانی کو نہ صرف نیویارک کا سب سے جوان اور پہلا مسلمان اور ایشیائی نژاد میئر بنا دیا بلکہ ٹرمپ کے امریکہ کے مقابلے میں جوان نسل کی مزاحمت کی علامت بھی تھی۔ ٹرمپ کا امریکہ ایسی جگہ ہے کرایوں میں اضافے کو روکنے، مفت ٹرانسپورٹ اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے چکنے چپڑے وعدوں کے ذریعے نیولبرل اور دائیں بازو کی پالیسیاں چھائی ہوئی ہیں۔
 
ٹرمپ جو نیویارک کو اپنا گھر تصور کرتا ہے، اکثر اوقات اسے "بائیں بازو کے حامیوں کی جہنم" قرار دیتا ہے اور اس نے کئی ماہ پہلے سے زہران ممدانی کو تابڑ توڑ حملوں کا نشانہ بنا رکھا تھا۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا: "اگر زہران ممدانی، کمیونسٹ امیدوار، کامیاب ہو جاتا ہے تو مجھے نہیں لگتا ضروری ترین اور کم از کم مقدار سے زیادہ میرے محبوب شہر کو مرکزی حکومت کا بجٹ مل پائے گا۔" یہ دھمکی ٹرمپ کی جانب سے ریاستی طاقت کو ذاتی انتقام کے لیے بروئے کار لانے کا جانا پہچانا ہتھکنڈہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے ممدانی کے مدمقابل امیدوار کومو کی حمایت بھی کی۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممدانی کی فتح کے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔ اس قسم کے رویے نے مخالفین کو ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت والا دور یاد کروا دیا جب وہ سن فرانسسکو جیسے شہروں کا بجٹ روک دینے کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔
 
اگرچہ وائٹ ہاوس میں انجام پانے والی یہ ملاقات بظاہر مقامی اتحاد کی عکاسی کرتی تھی لیکن اس نے ایک تاریخی لمحہ ایجاد کر دیا۔ وائٹ ہاوس کے اوول ہاوس میں پہلی بار غزہ میں غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں اظہار خیال کیا گیا جس نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر مبنی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا۔ زہران ممدانی نے کہا: "میں نے غزہ میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری نسل کشی پر بات کی ہے اور ہماری حکومت کی جانب سے اس کی مالی فنڈنگ کی بات بھی کی ہے۔" اس نے مزید کہا: "ہم یہ دیکھ دیکھ کر تھک چکے ہیں کہ ہمارے ٹیکس نہ ختم ہونے والی جنگوں پر خرچ ہوتے ہیں، ہمیں بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔" ٹرمپ جو اب تک سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف تمام قراردادوں کو ویٹو کرتا آیا ہے ایک تنقید کرنے والے میئر سے روبرو ہے اور یہ مسئلہ اندرونی تناو میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حکومت کی جانب سے میں اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاوس یہ ملاقات ہاوس میں ٹرمپ کی ہے اور

پڑھیں:

 صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات

 ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

 صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔ 

 صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔  
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل