Al Qamar Online:
2026-07-24@06:00:32 GMT

ٹرمپ کی دولت میں 2 ماہ کے دوران 1.1 ارب ڈالر کی کمی آگئی

اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT

ٹرمپ کی دولت میں 2 ماہ کے دوران 1.1 ارب ڈالر کی کمی آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت میں 1.1 بلین ڈالر (تقریباً 280 ارب روپے) کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

فوربز کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنی، ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG) کے شیئرز کی شدید گراوٹ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں ہفتے ٹی ایم ٹی جی کے شیئرز گھٹ کر 10.

18 ڈالر تک آ گئے، جس نے ٹرمپ کی مجموعی دولت کو براہِ راست متاثر کیا۔

ستمبر میں ٹرمپ کی دولت کا تخمینہ 3.7 بلین ڈالر تھا جو اب کم ہو کر 6.2 بلین ڈالر رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو مارکیٹ میں اچانک آنے والی مندی نے بھی ان کے اثاثوں کو مزید نقصان پہنچایا۔

فوربز کے مطابق گزشتہ سال سے رواں سال ستمبر تک ٹرمپ کی دولت میں 3 بلین ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا تھا، جس کے بعد وہ فوربز کی امریکا کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں 201 ویں نمبر پر آ گئے تھے۔ ان کی دولت میں اس اضافے کا زیادہ تر تعلق ٹرمپ فیملی کی کرپٹو سرمایہ کاری سے تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ٹرمپ کی دولت کی دولت میں بلین ڈالر

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی