data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک کے پہلے نومنتخب مسلم میئر زہران ممدانی نے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے روایتی ملاقات کی، جس دوران انہوں نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات اور امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے استعمال کے حوالے سے اپنا موقف پیش کیا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں زہران ممدانی نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ فلسطینی عوام کے خلاف استعمال ہو رہا ہے،  نیویارک کے شہری چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ جنگوں میں نہیں بلکہ مقامی ضروریات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہو۔

صدر ٹرمپ نے اس جواب پر کہا کہ ہم دونوں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں،  ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی تعریف کی اور نیویارک شہر کی بہتری کے لیے تعاون کا عزم ظاہر کیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اور اسرائیل دونوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ غزہ کی جنگ میں استعمال ہو رہا ہے،  ممدانی اور ٹرمپ کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات کئی ماہ کی تلخ بیان بازی کے بعد ہوئی، جس میں اختلافات کے باوجود بات چیت دوستانہ ماحول میں جاری رہی۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں زہران ممدانی نے صدر ٹرمپ کوفاشسٹ  کہنے سے قبل وضاحت دینا شروع کی  تاہم ٹرمپ نے کہا کہ بس ہاں کہہ دینا زیادہ آسان ہے۔

خیال رہےکہ نیویارک کے نومنتخب میئر زہران ممدانی یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان