پاکستان اور جرمنی نے دفاع، سیاسی امور، معیشت، تجارت و سرمایہ کاری اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے برسلز میں چوتھے ای یو انڈو پیسفک وزارتی فورم کے موقع پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور جرمن وزیر خارجہ یواخِم واڈی فول کے درمیان ملاقات میں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: افغانوں کی جرمنی میں جرائم پیشہ سرگرمیاں، ملک بدری کے اقدام میں تیزی

نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کے لیے جرمنی کی جانب سے 2025-26 کے لیے 114 ملین یورو کی فراہمی پر جرمن حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ یہ معاونت ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے شعبے میں منتقلی، پائیدار اقتصادی ترقی، ووکیشنل ٹریننگ اور سماجی تحفظ جیسے اہم شعبوں پر مرکوز ہے۔

اسحاق ڈار نے جرمن قیادت کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

دوسری جانب اسحاق ڈار نے برسلز ہی میں فلپائن کی سیکرٹری آف فارن افیئرز ماریہ تھیریسا پی لازارو سے بھی ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے: اسحاق ڈار کی روسی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں تعاون کے نئے مواقع پر بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر جاری باہمی تعاون پر اطمینان ظاہر کیا اور ایک دوسرے کی نامزدگیوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار جرمنی دوطرفہ تعاون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار دوطرفہ تعاون اسحاق ڈار

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم