کراچی سرکلر ریلوےشہر کی ضرورت ہے، جلد بحال کریں گے،وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی سرکلر ریلوے (KCR) کی جلد بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ کراچی کی اہم ضرورت ہے اور اس پر عملی پیش رفت تیز کی جا رہی ہے۔
کراچی کینٹ اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی حکومت بڑے ریلوے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران سے استنبول تک ریلوے روٹ کی بحالی پاکستان ریلوے کے لیے نئی ترقی کے دروازے کھول دے گی۔ وزیراعظم کے مطابق شالیمار ایکسپریس کو مکمل طور پر نئی ٹرین کے طور پر اپ گریڈ کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی صفائی کا نظام کراچی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سپرد کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ تھرکول کی ترسیل کے لیے وفاق اور سندھ حکومت کا اشتراک جاری ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریلوے طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار رہا ہے، مگر وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ان کی ٹیم نے اس بوسیدہ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مؤثر کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے حنیف عباسی کو اس سلسلے میں خصوصی مبارکباد بھی دی۔
قبل ازیں وزیراعظم نے کراچی کینٹ اسٹیشن کا دورہ کر کے منصوبے کی تفصیلات کا جائزہ لیا، وزیر ریلوے نے انہیں بریفنگ دی۔ بعد ازاں وزیراعظم نے اپ گریڈ شدہ شالیمار ایکسپریس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔