سکھر میں تجاوزات کے خاتمے کیلیے جامع منصوبہ تیار
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت) غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ تیار، شہریوں اور تاجروں سے تعاون کی اپیل، اسسٹنٹ کمشنر سکھر سٹی سارہ فراز نے کہا ہے کہ شہر کو انکروچمنٹ اور غیر قانونی پارکنگ جیسے دیرینہ مسائل سے مکمل طور پر نجات دلانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر کے مرکزی بازاروں، تجارتی مقامات اور مصروف شاہراہوں پر برسوں سے قائم تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈ ٹریفک کی روانی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ماضی میں متعدد آپریشنز کے باوجود مستقل حل نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسائل بار بار سر اٹھا لیتے ہیں۔ سارہ فراز نے واضح کیا کہ سکھر شہر میں سب سے بڑی مشکل باقاعدہ اور مخصوص پارکنگ ایریاز کا نہ ہونا ہے، جس کی وجہ سے شہری مجبوری کے تحت سڑک کنارے گاڑیاں پارک کرتے ہیں اور ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے تاجر برادری کے تعاون سے ایک جامع پلان تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق شہر کے تمام دکانداروں کو اپنی دکان کے باہر صرف دو فٹ جگہ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جہاں وہ اپنا کاروباری سامان رکھ سکیں گے، جبکہ اس کے علاوہ سڑک یا فٹ پاتھ پر کوئی تجاوزات برداشت نہیں کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔