کورٹنی واش کی کوچنگ نے ٹیم کی کارکردگی کو نکھارا،افغان کرکٹر محمد شہزاد
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کورٹنی واش کی کوچنگ نے ٹیم کی کارکردگی کو نکھارا،افغان کرکٹر محمد شہزاد WhatsAppFacebookTwitter 0 27 November, 2025 سب نیوز
ابوظہبی : ابوظہبی ٹی 10لیگ میں رائل چیمپس مشکلات کے باوجود اپنے سفر کو مثبت انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیںاور تجربہ کار افغان اسٹار محمد شہزاد کے مطابق ایک مضبوط فرنچائز کی بنیاد رکھنے میں وقت، محنت اور مستقل مزاجی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
محمد شہزاد نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈری بولر اور ٹیم کے ہیڈ کوچ کورٹنی واش کے کردار کو ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کاغذ پر بھی ہماری ٹیم اچھی ہے اور گراؤنڈ میں بھی۔ ہماری محنت وہی ہے۔ ہمارے کوچ اور کپتان ہر وقت ہمیں موٹیویٹ کرتے ہیں۔شہزاد کے مطابق ٹیم میٹنگز میں کوچ غلطیوں کی نشاندہی اس انداز میں کرتے ہیں کہ کھلاڑیوں کا حوصلہ برقرار رہے۔وہ چھوٹی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوتی تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔ مقصد صرف مورال بلند رکھنا ہوتا ہے، باقی نتیجہ ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
شہزاد کا کہنا تھا کہ رائل چیمپس ایک نئی فرنچائز ہے اور اس کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔یہ نئی ٹیم ہے، بہتر ہونے میں وقت لگے گا لیکن ہر سال بہتری آئے گی۔ مینجمنٹ اچھی ہے، ٹیم کی ہر ضرورت پوری کی جاتی ہے۔
ٹیم میں شکیب الحسن، جیسن رائے، ایرون جونز اور ایسرو اُدانا جیسے انٹرنیشنل اسٹارز کی موجودگی کو بھی انہوں نے فرنچائز کا مضبوط پہلو قرار دیا۔ تمام کھلاڑی مختلف ملکوں سے ہیں، ہم سب اکٹھے بیٹھتے ہیں، بات کرتے ہیں، ماحول بہت اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ میچز کے درمیان ہمارے پاس 18 سے 20 گھنٹے ہوتے ہیں۔ ہم سوئمنگ، فزیو اور ہلکی ورزش سے ریکور کرتے ہیں اور اگلے میچ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت میں 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا گیا،کالعدم قرار دینے کا مطالبہ پاکستان ٹیم آئندہ سال جنوری میں سری لنکا کا دورہ کرے گی آئی ایل ٹی20: شعیب ملک پہلی بار کمنٹری باکس میں،وسیم اکرم، وقار یونس بھی پینل کا حصہ ابوطہبی ٹی 10:کولن منرو کی شاندار 77 رنز کی اننگز، واریئرز کی بُلز پر 35 رنز سے فتح سابق جنوبی افریقی کپتان فاف ڈو پلیسی نے اپنی فٹنس اور کارکردگی کا راز بتا دیا ابوظہبی ٹی10 میں لٹل وسیم اکرم نے دھوم مچا دی، اجمان ٹائٹنز نے رائل چیمپس کو سات وکٹوں سے شکست دے دی اجمان ٹائٹنز کی شاندار فتح ، پِیوش چاولہ کا دھواں دار اسپیل، وسٹا رائیڈرز 34 رنز سے شکستCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :