Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:02:11 GMT

چاند اور مریخ مشنوں کیلئے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

چاند اور مریخ مشنوں کیلئے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری

 

میلبورن(ویب ڈیسک) سائنس دانوں نے چاند اور مریخ مشنوں کے لیے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری کر دیا۔خبرایجنسی کے مطابق عالمی سائنس دانوں نے چاند اور مریخ پر طویل مدتی انسانی قیام کو برقرار رکھنے کے لیے پودوں پر مبنی زرعی نظام تیار کرنے کی ایک جامع روڈ میپ پیش کی ہے، جو زمین پر بھی پائیدار غذائی پیداوار میں انقلاب لا سکتی ہے۔

میلبورن یونیورسٹی کے مطابق اس منصوبے میں مختلف ممالک اور خلائی ایجنسیوں کے 40 سے زائد سائنس دان شامل ہیں، جنہوں نے طویل المدتی خلائی مہمات کے لیے خود کفیل، پودوں پر مبنی لائف سپورٹ سسٹم تیار کرنے کے لیے درکار سائنسی پیش رفت کی نشاندہی کی ہے۔ یہ تحقیق نیو فائیٹولوجسٹ جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ بایو ری جنریٹو سسٹم تازہ غذا اگا سکتے ہیں، پانی اور ہوا کو دوبارہ قابلِ استعمال بنا سکتے ہیں اور خلا بازوں کی صحت اور فلاح و بہبود کا سہارا بن سکتے ہیں۔ مستقبل کی خلائی مہمات کی رہنمائی کے لیے محققین نے ایک نیا فریم ورک بھی تجویز کیا ہے۔ بایوری جنریٹو لائف سپورٹ سسٹم ریڈی نیس لیول ، جو یہ جانچنے میں مدد دے گا کہ کس حد تک پودے خلائی مکانات میں غذائی اجزا کی ری سائیکلنگ، پانی کی صفائی، آکسیجن کی پیداوار اور غذائیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

میڈیا ریلیز کے مطابق روڈ میپ میں فصلوں کی سائنس میں ہونے والی جدید ترین پیش رفت جیسے سنتھیٹک بایولوجی، پریسیژن سینسنگ اور کنٹرولڈ انوائرنمنٹ ایگریکلچر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ناسا کے 2027 کے آرٹیمس تھری مشن سے قبل ترجیحات طے کرنے میں مدد دے گی، جس کے تحت انسان دوبارہ چاند کی سطح پر جائیں گے اور لونر ایفیکٹس آن ایگریکلچرل فلورا تجربہ کیا جائے گا جو پہلی بار چاند پر پودے اگا کر انہیں واپس لانے کی کوشش ہوگی۔

مطالعے کے شریک مصنف اور میلبورن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سگفریڈو فوینٹس کے مطابق چاند کے لیے زرعی نظام ڈیزائن کرنا زمین پر زراعت کو بہتر بنانے کے لیے اہم بصیرتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی ماہرین کے ساتھ مل کر انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ پودوں کو کس طرح انجینئر، موافق اور مانیٹر کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ چاند اور مریخ کے ماحول میں بھی نشوونما پا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار