امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی سے ایام فاطمیہ سے متعلق خصوصی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں اور انکا گھر ہم سب کیلئے بہترین نمونہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایام فاطمیہ کے دوران اہلبیت علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہے اور معلمین پر بات ہوتی ہے۔ جو معاشرے کی اصلاح کیلئے مثبت ثابت ہوتی ہیں۔ محرم، عاشورہ اور دیگر مقدس ایام کے دوران بھی معاشرہ دین کے قریب آتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اتحاد و ہم آہنگی اسوقت مسلمانوں میں پیدا ہوسکتی ہے، جب انسان دینی اور الہیٰ تعلیمات پر عمل کرے۔ رسول (ص) اور آل رسول (ع) کی طرف زندگی پر عمل کرکے ہم اتحاد پیدا کرسکتے ہیں۔ متعلقہ فائیلیںکوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علامہ سید ہاشم موسوی امام جمعہ کوئٹہ اور مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ انکے والد گرامی سید محمد شاہ اپنے علاقے میں دین کی ابتدائی تعلیمات دینے اور دیگر مذہبی امور میں مصروف رہتے تھے۔ علامہ ہاشم موسوی نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے پرائمری سکول اور اسلامیہ ہائی سکول سے حاصل کی۔ دور طالب علمی میں ہی انہوں نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور اپنی دینی و سماجی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے چند برسوں بعد دینی تعلیمات کا بھی آغاز کیا اور شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی شاگردی کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیمات علامہ عارف حسینی کے مدرسے سے حاصل کیں، جو پاراچنار میں واقع ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کیا اور 1988ء کو قم المقدس چلے گئے۔ وہ بائس سال تک وہاں زیر تعلیم رہے۔ علامہ ہاشم موسوی تعلیم حاصل کرنے کے دوران بھی وقتاً فوقتاً کوئٹہ آتے اور تبلیغات دین میں حصہ لیتے تھے۔ بعد ازاں اس دور میں کوئٹہ کے امام جمعہ علامہ یعقوب توسلی علیل ہوگئے تو مومنین نے ان سے کوئٹہ تشریف لانے کی درخواست کی اور انکو امام جمعہ کوئٹہ کے منصب پر فائز کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی دینی خدمات جاری رکھتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام میں بھی حصہ لیا اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے راستے ہموار کئے۔
علامہ سید ہاشم موسوی اس وقت مجلس علمائے مکتب اہلبیتؑ پاکستان کے مرکزی نظارت کے رکن ہیں۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں اور انکا گھر ہم سب کیلئے بہترین نمونہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایام فاطمیہ کے دوران اہلبیت علیہ السلام کی یاد تازہ ہوتی ہے اور معلمین پر بات ہوتی ہے۔ جو معاشرے کی اصلاح کیلئے مثبت ثابت ہوتی ہیں۔ محرم، عاشورہ اور دیگر مقدس ایام کے دوران بھی معاشرہ دین کے قریب آتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اتحاد و ہم آہنگی اس وقت مسلمانوں میں پیدا ہوسکتی ہے، جب انسان دینی اور الہیٰ تعلیمات پر عمل کرے۔ رسول (ص) اور آل رسول (ع) کی طرف زندگی پر عمل کرکے ہم اتحاد پیدا کرسکتے ہیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ انہوں نے کے دوران ہوتی ہے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار