Express News:
2026-07-24@03:04:16 GMT

بھارت اور جھوٹے خوابوں کی اسیری

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

بھارت کب سے ایک خواب کا اسیر ہے۔ ایسا خواب جس کی تعبیر تاریخ نے صدیوں پہلے ہی بدل دی تھی مگر زمینی حقائق سے لاتعلق مودی سرکار اب بھی اس خواب کو اپنے سینے میں چراغِ آرزو کی طرح جلائے بیٹھا ہے۔

’اکھنڈ بھارت‘ کا یہ تصور کبھی چند پنڈتوں کے تصورات، سنسکرت میں لکھی ویدوں کے کچھ حوالوں اور بعض انتہاپسند ذہنوں کی سوچ تک محدود تھا، مگر اب اسے اقتدار کی میز پر یوں سجا دیا گیا ہے جیسے بس قلم اٹھے گا اور نقشہ بدل جائے گا۔ خواب دیکھنا منع نہیں مگر تاریخ کے دروازے پر خواب کی دستک ہمیشہ جواب نہیں پاتی۔ یوں بھی بھارت کے حالیہ سیاسی مزاج میں یہ خواب کوئی جمالیاتی سوچ نہیں بلکہ شکست کے دھبوں کو چھپانے کی ایک ایسی بے بسی ہے جس نے پورے خطے کو بےچینی کی دھند میں لپیٹ دیا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ مئی 2025 کی جنگ میں دہلی کو جو ہزیمت اٹھانا پڑی، وہ محض ایک عسکری شکست نہ تھی۔ وہ ایک ذہنی، فکری اور سیاسی بھونچال تھا جس نے ’ناقابل شکست‘ بھارتی عسکری بیانیے کا ملبہ سامنے  لاکر پوری دنیا میں بکھیر دیا تھا۔ بھارت نہ اس شکست کو تسلیم کرسکتا ہے، نہ بھلا سکتا ہے۔ سو آج بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیانات، مودی حکومت کی گرجتی تقریریں اور فوجی قیادت کے متضاد دعوے، سب اسی شکست کی بازگشت ہیں۔ یہ ایک ایسا طبلِ جنگ ہے جس کی کھنکار سے خوف نہیں، اضطراب سنائی دیتا ہے۔

راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان کہ ’سرحدیں بدلتی رہتی ہیں، سندھ کل دوبارہ بھارت کا حصہ بن سکتا ہے‘، یہ واقعتاً الفاظ نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت کی تصویر ہے۔ جیسے کسی شکست خوردہ سپاہی کے ہاتھ میں تلوار تو نہ ہو لیکن وہ محض چیخ چنگھاڑ کر مخالف کو زیر کرنے کی کوشش کرے۔ سندھ کے تہذیبی رشتوں کا حوالہ دے کر یہ تاثر پیدا کرنا کہ تاریخ کا فیصلہ آج بدل سکتا ہے، ایک ایسا مغالطہ ہے جو عقل و شعور کو نہیں، صرف سیاسی اضطراب کو سہارا دیتا ہے۔ پاکستان نے بجا کہا کہ یہ بیان ’ہندوتوا کی توسیع پسند ذہنیت‘ کا عکاس ہے۔ ایسی ذہنیت جس کا تعلق عقل سے زیادہ خواہش سے اور حقیقت سے زیادہ فریب سے ہوتا ہے۔

یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ مئی کی جنگ میں بھارتی عسکری منصوبہ بندی ایسے پگھلی جیسے موم کو دھوپ میں رکھ دیا جائے۔ رافال طیاروں کا غرور، میزائلوں کی ٹیکنالوجی اور ’چند گھنٹوں میں فتح‘ کے نعرے، سب اسی جنگ کی آگ میں بھسم ہوگئے۔ تبھی تو کبھی بھارتی فوجی کمانڈر کہتے ہیں کہ پاکستان زیرِ دست آگیا اور اُسی سانس میں یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اگر بھارت کو مستقبل میں جنگ جیتنی ہے تو اسلحے کے انبار جمع کرنا ہوں گے۔ یہ تضاد، یہ الجھن اور یہ گرتی دیوار کی آوازیں، سب کچھ بتاتا ہے کہ کسی مضبوط دلیر فوج کا لہجہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایسا تو تب ہوتا ہے جب شکست کی دھوپ میں آنکھیں چندھیا جائیں اور راستہ دکھائی نہ دے۔

مودی حکومت کے پاس داخلی مسائل کی ایک بھیڑ ہے۔ معیشت کی سسکتی شہ رگ، بے روزگاری کا بوجھ، اقلیتوں کی دل گرفتگی، مذہبی بے چینی اور ایک ایسا سماج جس کے چہروں پر خوف اور اضطراب کی شکنیں نمایاں ہیں۔ ایسی حکومتوں کے پاس اکثر ایک آسان حل ہوتا ہے، یعنی ’خارجی دشمن‘ کو بڑا دکھاؤ، ’خطرے‘ کی گھنٹیاں بجاؤ اور اپنے عوام کو جذبات کی آندھی کے حوالے کردو۔ یہی کھیل آج نئی دہلی کھیل رہا ہے۔ مگر تاریخ ہنستی ہے کہ بھلا آنکھوں پر پٹی باندھ لینے سے راستے بدل جاتے ہیں؟

سندھ کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ یہ صرف جغرافیہ نہیں، ایک تہذیب کا سرمدی سلسلہ ہے۔ اگر تہذیبی رشتے سرحدیں بدلنے کا جواز بن جائیں تو پھر دنیا کے بیشتر ممالک کا نقشہ ہر روز نیا ہو۔ تہذیب رشتے بناتی ہے، مگر سرحدوں کا فیصلہ دستور، معاہدوں اور اقوام کے حقِ خود ارادیت سے ہوتا ہے۔ راج ناتھ سنگھ چاہے کچھ بھی کہہ لیں، حقیقت یہی ہے کہ سندھ پاکستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کی مٹی، اس کی خوشبو، اس کی ہوا اور اس کا آسمان، سب پاکستان کی وحدت کے امین ہیں۔

پاکستان نے بھارت کے بیانات کے جواب میں بین الاقوامی اصولوں کی بات کی ہے۔ یہی فرزانگی ہے۔ کتنا خوب کہا ہے کسی نے کہ ’’جو قومیں خالی نعروں سے اٹھتی ہیں، وہ توپوں کے شور میں گم ہو جاتی ہیں‘‘۔

پاکستان نے مئی کی جنگ میں بھی یہی راستہ اپنایا۔ نہ اشتعال، نہ غرور اور نہ فتح کا ڈھول۔ بس سول ذمے داری اور وہ عسکری مہارت، جس پر دنیا نے حیرت کا اظہار کیا۔ دوسری جانب بھارت نے سیاسی دعووں کی چنگاریاں اڑائیں اور پاکستان نے سفارتی وقار کی لکیر برقرار رکھی۔ لیکن بھارتی قیادت آج بھی شکست کے ایک چرکے کو سہلا رہی ہے اور سچ یہ ہے کہ زخم وقت سے نہیں، چوٹ کو تسلیم کرنے سے بھرتے ہیں، مگر بھارت شکست کا وہ لمحہ قبول نہیں کر پا رہا۔ ایک ریگستانی قافلے کی طرح جس کے اونٹ پر بوجھ بڑھ گیا ہو، بھارت بھی شکست کے وزن تلے دبتا جا رہا ہے مگر بوجھ اتارنے کی ہمت نہیں۔

دہلی کے کمانڈر کبھی ’آپریشن سندور‘ کو ’ٹیزر‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل ’فلم‘ ابھی باقی ہے۔ افسوس کہ دھمکیوں کے اسی اسٹیج پر وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کے پاس طویل جنگ لڑنے کا ذخیرہ موجود نہیں۔ ایسی متضاد باتیں مضبوط اعصاب نہیں بلکہ کمزور اعصاب کی چغلی کھاتی ہیں۔ فوجی قیادت اگر ایک ہی تقریر میں فتح کے ترانے اور کمزوری کے اعتراف یکجا کردے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی نہ کوئی دروازہ اندر سے ہل چکا ہے۔

جنوبی ایشیا اب جنگ کے دھوئیں اور توپوں کی اڑتی خاک کا جہنم برداشت نہیں کرسکتا۔ اسے امن چاہیے، خوش حالی چاہیے اور وہ عقل چاہیے جو سیاست کے بدن کو جنگ کے بخار سے باہر نکال سکے۔ سیاست کے کوچے میں یہ اصول ہمیشہ سے معتبر ہے کہ ’جیت اس کی ہوتی ہے جو حقیقت کو آنکھ بھر کر دیکھے‘۔

بھارت کے لیے راستہ آج بھی کھلا ہے۔ یا وہ اپنی شکست کو ایک سبق بنالے، تاریخ کی گواہی قبول کرلے اور خطے میں نئے باب کا آغاز کرے ، یا پھر دھوکے کے آئینے میں اپنا جعلی عکس دیکھتا رہے اور ہر آنے والے کل کے میدان میں ایک اور غلطی کا اہل بنتا چلا جائے۔

وقت کا صفحہ کبھی خالی نہیں رہتا۔ تاریخ کے کاتب ہر بات لکھتے ہیں۔ مئی 2025 کی سطور ابھی تک دہلی کے سیاسی چہرے پر روشن دکھائی دیتی ہیں۔ اٹل، انمٹ اور کامل شدت کے ساتھ۔ پاکستان نے اپنی ذمے داری پوری کی۔ اب فیصلہ بھارت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ عقل کی راہ اختیار کرتا ہے یا پھر خود کو اسی فریب کے شکنجے میں جکڑتا چلا جاتا ہے۔

آخر میں بس اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ’’سرحدیں تلوار سے نہیں، ادراک سے بدلتی ہیں اور ادراک ان قوموں کے حصے میں آتا ہے جو شکست سے بھاگتی نہیں، اس سے سیکھتی ہیں‘‘۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان نے بھارت کے ہوتا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف