WE News:
2026-06-03@05:21:41 GMT

ہر دل عزیز محمد عزیز

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے لمحوں سے روبرو کر دیتی ہے جو خواب اور حقیقت کے بیچ کی لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔ بھاگ دوڑ کے دنوں میں محمد عزیز کے لیے بھی ایسا ہی ایک لمحہ آیا جب وہ بمبئی کے مضافاتی علاقے کے چھوٹے سے کمرے میں بے سُدھ سو رہے تھے اور کسی کی آواز نے ان کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی: ’ارے منا ۔ ۔ ۔ انو ملک آئے ہیں۔‘

محمد عزیز اسے خواب سمجھے، لیکن مسلسل پکار اور جھنجوڑنے پر انہیں احساس ہوا کہ یہ کوئی خواب نہیں حقیقت تھی۔ ’انو ملک‘ 1980 کی دہائی میں بالی ووڈ کی موسیقی میں اپنی پہچان بنانے کی تگ و دو میں تھے، انہیں ایسے گلوکار کی تلاش تھی جو محمد رفیع کی یادیں تازہ کرسکے۔

من موہن ڈیسائی کی ہدایتکاری میں فلم ’مرد‘ کے ’ٹائٹل سانگ‘کے لیے’گریٹ محمد رفیع‘ جیسی آواز ایک بڑا چیلنج تھا، یہ لمحات محمد عزیز کے خواب کی تعبیر تھے۔ وہ فوراً اپنی چارپائی سے اتر کے ننگے پاؤں ’انو ملک‘ کے پاس دوڑے گئے۔ یہ ملاقات محمد عزیز کا بالی وڈ میں پہلا قدم تھا۔ اور محمد عزیز وہ گلوکار ثابت ہوئے جو ہر معیار پر پورا اترتے تھے۔

محمد عزیز نے فلم ’مرد‘ کے دو گیت، ’مرد تانگے والا‘ اور ’ہم تو تمبو میں بمبو‘ گا کر بیحد شہرت پائی اور ہر بڑے موسیقار کی ترجیح بن گئے، اور اپنے روحانی استاد محمد رفیع کے جاں نشیں ثابت ہوئے۔

محمد عزیز 2 جولائی 1954 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ موسیقی ان کے لہو میں شامل تھی، بچپن سے ہی میوزیکل پروگرامز میں گانے لگے تھے۔ پھر ہوٹلوں، شادی بیاہ کی تقریبات اور کولکتہ اسٹیج پرفارمنس نے ان کی بنیادیں مضبوط کیں۔ وہ اپنی والدہ سے دو سال کی مہلت لیکر 1984 میں ممبئی گئے تھے کہ موسیقی میں نام پیدا کروں گا، نہیں تو کوئی اور کام شروع کر دوں گا۔

محمد عزیز کی آواز میں اسٹیج گائیکی کا جوشیلا پن ہی نہیں کلاسیکی موسیقی کی نزاکت بھی شامل تھی۔ اونچے سُروں میں مہارت، دل چُھو لینے والا ایکسپریشن، اور ہر طرز کے گیتوں کو بنا دقت اور بہترین انداز میں پیش کرنا ان کا خاصا تھا۔

محمد عزیز نے صرف اردو میں ہی نہیں بلکہ ہندی، بنگالی، اڑیسی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں بھی سُروں کے جادو سے پرستاروں کے دل جیتے۔ ان کی ورسٹائل آواز نے انہیں دنیائے موسیقی کی مقبول ترین آواز بنا دیا تھا۔

محمد عزیز کی آواز نے اپنے دور کے قریباً تمام ہیروز کو شہرت بخشی۔ دلیپ کمار، شمّی کپور، دھرمندر، جیتندر، متھن چکرورتی، امیتابھ بچن، جیکی شروف، گووندا، انیل کپور، شترُوگھن سنہا، راجیش کھنہ، ونود کھنہ، رشی کپور، متھن چکراورتی، سلمان خان اور شاہ رخ خان تک کے کرداروں کو ان کی گائیکی نے رنگ دیا۔

اگرچہ محمد عزیز متعدد فلمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ لتا منگیشکر، کشور کمار اور مہدی حسن کی ستائش ان کے لیے کسی بھی ایوارڈ سے بڑھ کر ہے۔ قریباً 3 دہائیوں تک فلمی گلوکاری اور اسٹیج شوز میں اپنے فن کا لوہا منوائے رکھا۔

محمد عزیز کے گلشن میں دو پھول کھلے، بیٹا جاذب عزیز اور بیٹی ثنا عزیز۔ ثنا عزیز موسیقی سے لگاؤ رکھتی ہیں اور معروف گائیکہ ہیں۔ والد کی خواہش کے مطابق، انہوں نے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ محمد عزیز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میری وراثت میری بیٹی ثنا عزیز سنبھالے گی۔

27 نومبر 2018 کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وہ ہم سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی آواز زندہ ہے۔ اپنے روحانی استاد ’محمد رفیع‘ کو فلم ’کرودھ‘ میں ایک گیت کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا تھا: ’نہ فنکار تجھ سا تیرے بعد آیا ۔ ۔ ۔ محمد رفیع تو بہت یاد آیا۔‘ اسی تناظر میں آج ان کی برسی کے موقع پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’محمد عزیز تو بہت یاد آیا۔‘

محمد عزیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں 20 ہزار سے زائد گیت گائے جس کا وہ ثبوت بھی پیش کرسکتے ہیں۔ ان کے اردو گانوں میں سے میرے پسندیدہ چند گیت یہ ہیں:

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

تمہیں دل سے کیسے جدا ہم کریں گے ۔۔۔ فلم: دودھ کا قرض

کیسے کٹے دن کیسے کٹیں راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

آپ کے آ جانے سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

دل تیرا کس نے توڑا ۔۔۔ فلم: دیاوان

اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ

تیری بے وفائی کا شکوہ کروں تو ۔۔۔ فلم: رام اوتار

محمد عزیز کا خواب سے حقیقت تک کا ابتدائی سفر اور وہ لمحہ جب ’انو ملک‘ نے انہیں تلاش کیا، اور بالی ووڈ میں ان کے سنہرے گیت یاد دلاتے ہیں کہ محنت اور جذبہ ضائع نہیں جاتا۔ محمد عزیز موسیقی کا وہ ساگر ہے جس کی لہریں ہمیشہ ہمارے دلوں میں شور مچاتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

امتیابھ بچن دلیپ کمار گلوکار محمد عزیز لتا، کشور محمد رفیع محمد عزیز مشکورعلی مہدی حسن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امتیابھ بچن دلیپ کمار گلوکار محمد عزیز لتا کشور محمد رفیع مشکورعلی وی نیوز محمد رفیع کی آواز انو ملک کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی