WE News:
2026-06-03@07:01:22 GMT

ہر دل عزیز محمد عزیز

اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے لمحوں سے روبرو کر دیتی ہے جو خواب اور حقیقت کے بیچ کی لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔ بھاگ دوڑ کے دنوں میں محمد عزیز کے لیے بھی ایسا ہی ایک لمحہ آیا جب وہ بمبئی کے مضافاتی علاقے کے چھوٹے سے کمرے میں بے سُدھ سو رہے تھے اور کسی کی آواز نے ان کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی: ’ارے منا ۔ ۔ ۔ انو ملک آئے ہیں۔‘

محمد عزیز اسے خواب سمجھے، لیکن مسلسل پکار اور جھنجوڑنے پر انہیں احساس ہوا کہ یہ کوئی خواب نہیں حقیقت تھی۔ ’انو ملک‘ 1980 کی دہائی میں بالی ووڈ کی موسیقی میں اپنی پہچان بنانے کی تگ و دو میں تھے، انہیں ایسے گلوکار کی تلاش تھی جو محمد رفیع کی یادیں تازہ کرسکے۔

من موہن ڈیسائی کی ہدایتکاری میں فلم ’مرد‘ کے ’ٹائٹل سانگ‘کے لیے’گریٹ محمد رفیع‘ جیسی آواز ایک بڑا چیلنج تھا، یہ لمحات محمد عزیز کے خواب کی تعبیر تھے۔ وہ فوراً اپنی چارپائی سے اتر کے ننگے پاؤں ’انو ملک‘ کے پاس دوڑے گئے۔ یہ ملاقات محمد عزیز کا بالی وڈ میں پہلا قدم تھا۔ اور محمد عزیز وہ گلوکار ثابت ہوئے جو ہر معیار پر پورا اترتے تھے۔

محمد عزیز نے فلم ’مرد‘ کے دو گیت، ’مرد تانگے والا‘ اور ’ہم تو تمبو میں بمبو‘ گا کر بیحد شہرت پائی اور ہر بڑے موسیقار کی ترجیح بن گئے، اور اپنے روحانی استاد محمد رفیع کے جاں نشیں ثابت ہوئے۔

محمد عزیز 2 جولائی 1954 کو کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ موسیقی ان کے لہو میں شامل تھی، بچپن سے ہی میوزیکل پروگرامز میں گانے لگے تھے۔ پھر ہوٹلوں، شادی بیاہ کی تقریبات اور کولکتہ اسٹیج پرفارمنس نے ان کی بنیادیں مضبوط کیں۔ وہ اپنی والدہ سے دو سال کی مہلت لیکر 1984 میں ممبئی گئے تھے کہ موسیقی میں نام پیدا کروں گا، نہیں تو کوئی اور کام شروع کر دوں گا۔

محمد عزیز کی آواز میں اسٹیج گائیکی کا جوشیلا پن ہی نہیں کلاسیکی موسیقی کی نزاکت بھی شامل تھی۔ اونچے سُروں میں مہارت، دل چُھو لینے والا ایکسپریشن، اور ہر طرز کے گیتوں کو بنا دقت اور بہترین انداز میں پیش کرنا ان کا خاصا تھا۔

محمد عزیز نے صرف اردو میں ہی نہیں بلکہ ہندی، بنگالی، اڑیسی، پنجابی اور دیگر زبانوں میں بھی سُروں کے جادو سے پرستاروں کے دل جیتے۔ ان کی ورسٹائل آواز نے انہیں دنیائے موسیقی کی مقبول ترین آواز بنا دیا تھا۔

محمد عزیز کی آواز نے اپنے دور کے قریباً تمام ہیروز کو شہرت بخشی۔ دلیپ کمار، شمّی کپور، دھرمندر، جیتندر، متھن چکرورتی، امیتابھ بچن، جیکی شروف، گووندا، انیل کپور، شترُوگھن سنہا، راجیش کھنہ، ونود کھنہ، رشی کپور، متھن چکراورتی، سلمان خان اور شاہ رخ خان تک کے کرداروں کو ان کی گائیکی نے رنگ دیا۔

اگرچہ محمد عزیز متعدد فلمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ لتا منگیشکر، کشور کمار اور مہدی حسن کی ستائش ان کے لیے کسی بھی ایوارڈ سے بڑھ کر ہے۔ قریباً 3 دہائیوں تک فلمی گلوکاری اور اسٹیج شوز میں اپنے فن کا لوہا منوائے رکھا۔

محمد عزیز کے گلشن میں دو پھول کھلے، بیٹا جاذب عزیز اور بیٹی ثنا عزیز۔ ثنا عزیز موسیقی سے لگاؤ رکھتی ہیں اور معروف گائیکہ ہیں۔ والد کی خواہش کے مطابق، انہوں نے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ محمد عزیز نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میری وراثت میری بیٹی ثنا عزیز سنبھالے گی۔

27 نومبر 2018 کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وہ ہم سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی آواز زندہ ہے۔ اپنے روحانی استاد ’محمد رفیع‘ کو فلم ’کرودھ‘ میں ایک گیت کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا تھا: ’نہ فنکار تجھ سا تیرے بعد آیا ۔ ۔ ۔ محمد رفیع تو بہت یاد آیا۔‘ اسی تناظر میں آج ان کی برسی کے موقع پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’محمد عزیز تو بہت یاد آیا۔‘

محمد عزیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں 20 ہزار سے زائد گیت گائے جس کا وہ ثبوت بھی پیش کرسکتے ہیں۔ ان کے اردو گانوں میں سے میرے پسندیدہ چند گیت یہ ہیں:

پیار ہمارا امر رہے گا ۔۔۔ فلم: مدت

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے ۔۔۔ فلم: آدمی کھلونا ہے

دنیا میں کتنا غم ہے ۔۔۔ فلم: امرت

آج کل یاد کچھ اور رہتا نہیں ۔۔۔ فلم: نگینہ

متوا بھول نہ جانا ۔۔۔ فلم: کب تک چپ رہوں گی

تمہیں دل سے کیسے جدا ہم کریں گے ۔۔۔ فلم: دودھ کا قرض

کیسے کٹے دن کیسے کٹیں راتیں ۔۔۔ فلم: سورگ

آپ کے آ جانے سے ۔۔۔ فلم: خود غرض

دل تیرا کس نے توڑا ۔۔۔ فلم: دیاوان

اے مرے دوست لوٹ کے آجا ۔۔۔ فلم: سورگ

تیری بے وفائی کا شکوہ کروں تو ۔۔۔ فلم: رام اوتار

محمد عزیز کا خواب سے حقیقت تک کا ابتدائی سفر اور وہ لمحہ جب ’انو ملک‘ نے انہیں تلاش کیا، اور بالی ووڈ میں ان کے سنہرے گیت یاد دلاتے ہیں کہ محنت اور جذبہ ضائع نہیں جاتا۔ محمد عزیز موسیقی کا وہ ساگر ہے جس کی لہریں ہمیشہ ہمارے دلوں میں شور مچاتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

امتیابھ بچن دلیپ کمار گلوکار محمد عزیز لتا، کشور محمد رفیع محمد عزیز مشکورعلی مہدی حسن وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امتیابھ بچن دلیپ کمار گلوکار محمد عزیز لتا کشور محمد رفیع مشکورعلی وی نیوز محمد رفیع کی آواز انو ملک کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی