آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں شامل اراکین کو وزارتوں کے قلمدان تفویض WhatsAppFacebookTwitter 0 21 November, 2025 سب نیوز

مظفرآباد(سب نیوز)آزاد جموں و کشمیر کابینہ میں شامل اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دیئے گئے۔سینئر وزیر میاں عبدالوحید کو وزیر قانون انصاف و پارلیمانی امور مقرر کیا گیا ہے، سردار جاوید ایوب وزیر جنگلات،وائلڈ لائف و فشریز اور ترقیاتی ادارہ مظفرآباد ہوں گے۔
چودھری قاسم مجید کو خزانہ و ان لینڈ ریونیو کی وزرات سونپی گئی ہے، سید بازل علی نقوی کو صحت عامہ اور بہبود آبادی کی وزارت کا چارج دے دیا گیا۔دیوان علی چغتائی محکمہ تعلیم سکولز کے وزیر مقرر ہو گئے، جاوید اقبال بڈھانوی وزیر خوراک آزادکشمیر، سردار ضیا القمر مواصلات و تعمیرات عامہ کے وزیر مقرر کئے گئے ہیں۔چودھری ارشد حسین کو توانائی و آبی وسائل، ظفر اقبال ملک وزیر کالجز، سردار محمد حسین زکو و عشر اور چودھری علی شان سونی زراعت امور حیوانات کے وزیر مقرر ہو گئے۔
چودھری اخلاق کو ریونیو، عامر یاسین کو لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی، چودھری یاسر سلطان کو فزیکل پلاننگ و ہاسنگ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔اسی طرح چودھری محمد رشید پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، رفیق نیئر مذہبی امور و اوقاف، فہیم ربانی سیاحت اور نبیلہ ایوب کشمیر کاز کی وزیر مقرر ہو گئیں۔احمد صغیر کو مشیر برائے سپورٹس یوتھ و کلچر جبکہ فہد یعقوب مشیر برائے صنعت و تجارت مقرر کیے گئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی آئی اے کا سنیئر فلائٹ اسٹیورڈ آصف نجم کینیڈا میں مبینہ طور پر لاپتا ہو گیا پی آئی اے کا سنیئر فلائٹ اسٹیورڈ آصف نجم کینیڈا میں مبینہ طور پر لاپتا ہو گیا ماہ جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا،یکم جمادی الثانی 1437ھ 23نومبر بروز اتوار ہوگی دبئی ائیر شو، بھارتی لڑاکا طیارہ گرنے کے بعد ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے شیئرز بھی گرگئے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 13بھارتی سرپرست خوارج ہلاک دبئی ائیر شو میں طیارہ گرنے کا واقعہ، بھارتیوں کی اپنی فضائیہ پر تنقید، ائیر چیف کے استعفے کا مطالبہ فیصل آباد، کیمیکل فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 20ہوگئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع