گراؤنڈز نیلامی کیس: حکمِ امتناع برقرار، سماعت ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے 10 کرکٹ اور 10 فٹ بال گراؤنڈز کی نیلامی پر جاری حکم امتناع میں 28 نومبر تک توسیع کر دی۔ عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے جواب جمع نا کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کو دوبارہ نوٹس جاری کر کے جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے راولپنڈی اسلام آباد سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ابو بکر بن طلعت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار اپنے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سی ڈی اے کی طرف سے خاتون وکیل سبین عدالت میں پیش، ایم سی آئی کی طرف سے کوئی پیش نہ ہوا۔ سی ڈی اے کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا آپ نے ابھی تک جواب جمع کیوں نہیں کرایا؟ آئندہ سماعت سے قبل ہر صورت تحریری جواب جمع کرائیں۔ صدر رسجا نے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی اور ان کی لیگل ٹیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سی ڈی اے کے پاس گراؤنڈز کی نیلامی کا اختیار ہی نہیں۔ اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت پلے گراؤنڈز کو کمرشل مقاصد کے لیے آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا۔ گراؤنڈز میں کھیلنے کے لیے رقم کا تقاضا کیا گیا تو شہریوں کی رسائی محدود ہو جائے گی۔ کھیل کے میدانوں کی نیلامی سے کرکٹ اور فٹ بال گراؤنڈز عام شہریوں کے لیے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ اسلام آباد میں کرکٹ اور فٹ بال گراؤنڈز کی دیکھ بھال میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ذمہ داری ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کے گراؤنڈز کی نیلامی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عدالت قرار دے کہ گراؤنڈز کی دیکھ بھال اور وہاں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی ایم سی آئی کا اختیار ہے۔ واضح رہے کہ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ ٹورزم نے گراؤنڈز کی اوپن آکشن کے لیے چار جولائی کو اشتہار جاری کیا تھا۔ سی ڈی اے اشتہار کے مطابق گراؤنڈز کو پانچ سال کے لیے نیلام کیا جائے گا، نیلامی 50 لاکھ سے سٹارٹ ہو گی۔ عدالت نے گراؤنڈز کی نیلامی پر حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گراؤنڈز کی نیلامی اسلام آباد سی ڈی اے کی جواب جمع کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔