بلائنڈ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں نے مثال قائم کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
بلائنڈ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں نے مثال قائم کردی۔
بھارتی اور پاکستانی ویمنز بلائنڈ ٹیموں نے دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود کھیل کی روح کو زندہ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ کرلیا۔
دنیا کے پہلے بلائنڈ خواتین ٹی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں ممالک کی ٹیموں کا ہاتھ ملانے کو شائقین کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔
سیاسی تناؤ کی وجہ سے گزشتہ دنوں بھارت کی مینز ٹیم نے ایشیا کپ میں پاکستانی ٹیم سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا تھا۔
بعدازاں ٹرافی جیتنے پر ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی کے ہاتھوں سے ٹرافی بھی وصول نہیں کی تھی۔
بلائنڈ ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت نے 8 وکٹ سے فتح پائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔