خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی آپریشن، بھارتی آلہ کار 13 خوارج مار دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
20 اور 21 نومبر 2025 کو خیبر پختونخوا میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج گروپ فتنہ الخوارج کے 13 دہشتگرد 2 مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر روس کی وارننگ
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی لکی مروت کے ضلع پہار خیل کے علاقے میں مشترکہ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران کی گئی۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
دوسری کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان میں انجام دی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 خوارج کو کامیابی سے نیوٹرلائز کیا۔
مزید پڑھیے: طالبان رجیم دہشتگردی پر پردہ ڈال رہی ہے، ترجمان دفتر خارجہ
ہلاک شدہ دہشتگردوں سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا جو سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے خلاف متعدد دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام کے وژن کے تحت علاقہ میں باقی بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے خلاف صفائی کی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: کرم میں سیکیورٹی فورسز کی 2 کارروائیوں میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک
وفاقی ایکشن پلان کے تحت یہ کاؤنٹر ٹیررازم مہم ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک تیز رفتار جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی آلہ کار خوارج ہلاک خیبرپختونخوا ڈیرہ اسماعیل خان سیکیورٹی آپریشن لکی مروت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی ا لہ کار خوارج ہلاک خیبرپختونخوا ڈیرہ اسماعیل خان سیکیورٹی ا پریشن لکی مروت سیکیورٹی فورسز خوارج کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔