سینیٹ میں گھریلو تشدد اور ٹرانسجینڈرز کے حقوق سے متعلق بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)اجلاس کے دوران اپوزیشن نے جیل ملاقاتوں پر پابندی کا معاملہ اٹھایا، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کئی ہفتوں سے اہلخانہ اور وکلا سے نہیں ملنے دیا جا رہا،جو انسانی حقوق اور جیل مینول کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ کئی ہفتوں سے مکمل طور پر تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ قانونی ٹیم اور نہ ہی اہل خانہ کو رسائی دی جا رہی ہے۔ قیدیوں سے ملاقات روکنا جیل قوانین، انسانی حقوق کے خلاف ہے، جس پر ایوان میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
سینیٹ نے گھریلو تشدد کے خلاف اور ٹرانسجینڈرز کے حقوق سے متعلق بل منظور کر لیا۔ بل شیری رحمان نے پیش کیا۔ بل کی منظوری پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کیا۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبوں میں ایسے قوانین پہلے سے موجود ہیں اور یہ قانون سازی کئی سالوں سے التوا کا شکار تھی، جو آج مکمل ہوئی ہے۔ پندرہ سال بعد ہونے والی اس پیش رفت پر حکومت اور اس کے اتحادی مبارکباد کے مستحق ہیں۔
بل کے خلاف جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اسے غیر شرعی قرار دیتے ہوئے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ ایوان کی کاروائی جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔