متحد عرب امارات پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کررہا:وزارت داخلہ کی سینیٹ کمیٹی کو آگاہی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔جبکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ یو اے ای مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک اور ترسیلات زر کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی تارکینِ وطن رہتے اور کام کرتے ہیں۔تاہم، ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نےسینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران بتایا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانیوں کو ویزے جاری نہیں کر رہا۔
سلمان چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور یو اے ای، پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی عائد کرنے کے قریب تھے لیکن آخری لمحے پر رک گئے، انہوں نے خبردار کیا ’اگر پابندی لگا دی گئی تو اسے ہٹوانا بہت مشکل ہوگا۔جبکہ وزارت داخلہ کے مطابق فی الحال یو اے ای صرف نیلے پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے جاری کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو ویزے جاری عرب امارات یو اے ای
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت