ایران سے بلوچستان کیلئے درآمدی بجلی 18 روپے فی یونٹ، سینیٹ میں حکومتی وضاحت پیش
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کیلئے ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کی قیمت کے حوالے سے اہم معلومات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں، ایوان کے اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، جس دوران وقفہ سوالات میں ارکان پارلیمنٹ نے مختلف اہم امور پر حکومتی وضاحتیں طلب کیں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس کے آغاز پر چیئرمین سینیٹ نے 356ویں اجلاس کے لیے پینل آف چیئرز کا اعلان کیا، جن میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر افنان اللہ شامل تھے۔ وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے مائیک دینے کی گزارش کی تاہم چیئرمین نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تقریر کے لیے بعد میں وقت دینے کی یقین دہانی کرائی۔
ایران سے مکران ڈویژن کو فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخ سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ پاکستان ایران سے زیادہ سے زیادہ 204 میگاواٹ تک بجلی درآمد کرنے کی استعداد رکھتا ہے جب کہ خریداری کا نرخ 18 روپے فی یونٹ مقرر ہے۔
سینیٹر جان محمد نے استفسار کیا کہ خریداری قیمت کے بجائے صارفین کو اصل میں کتنے روپے میں یہ بجلی فراہم کی جاتی ہے؟ اس پر وزیر نے واضح کیا کہ ایران سے خریدی گئی بجلی وہی نرخ رکھتی ہے جو مقامی طور پر مقرر ٹیرف میں شامل ہوتے ہیں، یوں قیمت خرید ہی قیمت فروخت قرار پاتی ہے۔
اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ 16 اپریل 2025ء سے 30 ستمبر 2025ء تک اضافی لیوی کی مد میں 66 ارب 13 کروڑ روپے جمع کیے گئے، پیٹرولیم لیوی کی تمام وصولیاں وفاقی مشترکہ فنڈ میں جاتی ہیں، اور اخراجات یا تقسیم کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کے پاس نہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن نے مزید وضاحت کی کہ حکومت نے سڑکوں کی تعمیر کے لیے پیٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 7 روپے فی لیٹر لیوی عائد کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مجموعی طور پر 200 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کی وصولی کا عمل جاری ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے سبب صارفین کو ریلیف فراہم کرنا محدود رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران سے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔