data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کیلئے ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کی قیمت کے حوالے سے اہم معلومات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں،  ایوان کے اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، جس دوران وقفہ سوالات میں ارکان پارلیمنٹ نے مختلف اہم امور پر حکومتی وضاحتیں طلب کیں۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس کے آغاز پر چیئرمین سینیٹ نے 356ویں اجلاس کے لیے پینل آف چیئرز کا اعلان کیا، جن میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر افنان اللہ شامل تھے۔ وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے مائیک دینے کی گزارش کی تاہم چیئرمین نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تقریر کے لیے بعد میں وقت دینے کی یقین دہانی کرائی۔

ایران سے مکران ڈویژن کو فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخ سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ پاکستان ایران سے زیادہ سے زیادہ 204 میگاواٹ تک بجلی درآمد کرنے کی استعداد رکھتا ہے جب کہ خریداری کا نرخ 18 روپے فی یونٹ مقرر ہے۔

سینیٹر جان محمد نے استفسار کیا کہ خریداری قیمت کے بجائے صارفین کو اصل میں کتنے روپے میں یہ بجلی فراہم کی جاتی ہے؟ اس پر وزیر نے واضح کیا کہ ایران سے خریدی گئی بجلی وہی نرخ رکھتی ہے جو مقامی طور پر مقرر ٹیرف میں شامل ہوتے ہیں، یوں قیمت خرید ہی قیمت فروخت قرار پاتی ہے۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ 16 اپریل 2025ء سے 30 ستمبر 2025ء تک اضافی لیوی کی مد میں 66 ارب 13 کروڑ روپے جمع کیے گئے،  پیٹرولیم لیوی کی تمام وصولیاں وفاقی مشترکہ فنڈ میں جاتی ہیں، اور اخراجات یا تقسیم کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کے پاس نہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے مزید وضاحت کی کہ حکومت نے سڑکوں کی تعمیر کے لیے پیٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 7 روپے فی لیٹر لیوی عائد کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مجموعی طور پر 200 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کی وصولی کا عمل جاری ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے سبب صارفین کو ریلیف فراہم کرنا محدود رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران سے

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے

سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔ 

شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے  نفسیاتی  اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو  تنخواہ  ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی  سارے بجٹ کو  ہلا دیتی ہے ۔  اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور  دیگر  اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔  حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔ 
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے