بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں: جیل حکام
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)اڈیالہ جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے افواہوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اڈیالہ جیل میں موجود ہیں اور مکمل طور پر صحت یاب ہیں، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، ان کی صحت کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔
عمران خان کی خیریت سے متعلق افواہوں پر پی ٹی آئی کا شدید ردِ عمل سامنے آگیا
خیال رہے کہ عمران خان کی خیریت سے متعلق افواہوں پر پی ٹی آئی نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان اور بھارتی میڈیا سے بانی کی صحت بارے گھناؤنی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، حکومت اور وزارتِ داخلہ ان افواہوں کی فوری تردید کرے اور عمران خان کی فیملی سے ان کی فوری ملاقات کروائی جائے۔
ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی
پی ٹی آئی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سلامتی پر شفاف سرکاری بیان جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ افواہیں پھیلانے والوں کی تحقیقات کر کے حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، قوم اپنے قائد سے متعلق کسی ابہام کو برداشت نہیں کرے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کی صحت
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔