وفاقی بیورکریسی کے تبادلے ؛ سلطان احمد چوہدری آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس تعینات
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سٹی 42: وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے سلطان احمد چوہدری کو نیا آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس تعینات کیا گیا ہے.
پولیس سروس گریڈ 21 کے افسر سلطان احمد چوہدری پنجاب حکومت میں تعینات تھے، موجودہ آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس بی اے ناصر رواں ماہ 30 نومبر کو ریٹائر ہوں گے، بی اے ناصر کی ریٹائرمنٹ کے بعد سلطان احمد چوہدری یکم دسمبر سے آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا چارج سنبھالیں گے،
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
علاوہ ازیں وزیراعظم نے وقاص انور کو ممبر پلاننگ کمیشن (انفراسٹرکچر اینڈ ریجنل کنیکٹیوٹی) مقرر کر دیا ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) وقاص انور کی تقرری کنٹریکٹ پر دو سال کے لیے کی گئی ہے،۔
ایس پی کیپٹن (ر) سلیم عباس کلاچی کو فیڈرل کانسٹیبلری میں تعینات کیا گیا ہے، پولیس سروس گریڈ 18 کے افسر کیپٹن (ر) سلیم عباس کلاچی تقرری کے منتظر تھے۔
ایڈیشنل سیکریٹری منصوبہ بندی ڈویژن ڈاکٹر محمد طارق موج کا تبادلہ کر کے انہیں سیکریٹری فیڈرل پبلک سروس کمیشن تعینات کیا گیا ہے۔ او ایس ڈی جمیل اختر خان کو ڈپٹی سیکریٹری ریونیو ڈویژن تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ڈپٹی سیکریٹری ریونیو ڈویژن محمد خان بابر کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان تقرر و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں.
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سلطان احمد چوہدری تعینات کیا گیا ہے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔