حکومت پنجاب نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں چوتھی ترمیم کی منظوری دے کر لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر درج کی جا سکے گی اور ڈرائیونگ لائسنس بھی معطل ہو سکتا ہے۔
سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اظہر وحید کے مطابق نئی ترمیم کے بعد موٹر سائیکل کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے، تھری وہیلر گاڑیوں پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے، اور کم سے درمیانے سائز کی کار/جیپ پر 2 ہزار سے 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ 2 ہزار سی سی سے زیادہ گاڑیوں پر جرمانہ 5 ہزار سے 20 ہزار روپے تک ہوگا، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے لیے یہ رقم 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے۔
سی ٹی او نے بتایا کہ ہر ٹریفک خلاف ورزی پر پوائنٹس کٹوتی ہوگی، اور اگر کسی ڈرائیور کے 20 پوائنٹس ایک سال میں کٹ جائیں تو لائسنس چھ ماہ کے لیے معطل ہو جائے گا۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے یا ون وے خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج ہوگی، جس پر چھ ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر ڈرائیورز کی مدد کرنے والے افراد، گاڑی کی ساخت میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے والے، بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے والے، اور سیاہ شیشوں والی گاڑی چلانے والے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ تھری وہیل گاڑیوں میں ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا اور اگلی نشست پر بیٹھنے والے مسافروں کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال ضروری ہوگا۔
سی ٹی او نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ نئے جرمانوں اور قوانین کے بارے میں آگاہ رہیں اور ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا چینلز سے معلومات حاصل کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کی بالادستی اور سڑکوں پر نظم و ضبط کے لیے بعض اوقات سخت اقدامات ضروری ہوتے ہیں اور امید ہے کہ شہری ان کے نفاذ میں پولیس کا ساتھ دیں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ہزار روپے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی