لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بڑھانے کی منظوری، شہریوں کو آگاہی مہم شروع
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
حکومت پنجاب نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں چوتھی ترمیم کی منظوری دے کر لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر ایف آئی آر درج کی جا سکے گی اور ڈرائیونگ لائسنس بھی معطل ہو سکتا ہے۔
سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اظہر وحید کے مطابق نئی ترمیم کے بعد موٹر سائیکل کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے، تھری وہیلر گاڑیوں پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے، اور کم سے درمیانے سائز کی کار/جیپ پر 2 ہزار سے 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ 2 ہزار سی سی سے زیادہ گاڑیوں پر جرمانہ 5 ہزار سے 20 ہزار روپے تک ہوگا، جبکہ کمرشل گاڑیوں کے لیے یہ رقم 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے۔
سی ٹی او نے بتایا کہ ہر ٹریفک خلاف ورزی پر پوائنٹس کٹوتی ہوگی، اور اگر کسی ڈرائیور کے 20 پوائنٹس ایک سال میں کٹ جائیں تو لائسنس چھ ماہ کے لیے معطل ہو جائے گا۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے یا ون وے خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج ہوگی، جس پر چھ ماہ تک قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر ڈرائیورز کی مدد کرنے والے افراد، گاڑی کی ساخت میں غیر قانونی تبدیلیاں کرنے والے، بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے والے، اور سیاہ شیشوں والی گاڑی چلانے والے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ تھری وہیل گاڑیوں میں ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا اور اگلی نشست پر بیٹھنے والے مسافروں کے لیے سیٹ بیلٹ کا استعمال ضروری ہوگا۔
سی ٹی او نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ نئے جرمانوں اور قوانین کے بارے میں آگاہ رہیں اور ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا چینلز سے معلومات حاصل کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین کی بالادستی اور سڑکوں پر نظم و ضبط کے لیے بعض اوقات سخت اقدامات ضروری ہوتے ہیں اور امید ہے کہ شہری ان کے نفاذ میں پولیس کا ساتھ دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔