امریکا نے جنوبی افریقہ کو آئندہ جی 20 سمٹ کی دعوت واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقہ کو اگلے سال میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس کی دعوت منسوخ کر دی۔ ٹرمپ نے اعلان اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقہ کے سابق صدر کی بیٹی کا اپنے ہی خاندان کے مردوں سے انوکھا فراڈ
ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی افریقہ کسی بھی فورم کی رکنیت کے قابل نہیں اور امریکا اس ملک کے لیے تمام مالی معاونت فوری طور پر روک دے گا۔
امریکی صدر جنوبی افریقہ میں زمین سے متعلق نئے قانون اور سفید فام کسانوں کے خلاف مبینہ مظالم کے دعووں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، جنہیں جنوبی افریقی حکومت اور علاقائی رہنماؤں نے ثبوت سے خالی قرار دیا ہے۔
اس سے قبل امریکا نے جوہانسبرگ میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کیا تھا۔ جنوبی افریقہ نے ٹرمپ کے الزامات کو نسلی خوف پھیلانے کی کوشش اور سیاسی مفاد کے لیے غلط بیانی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی افریقہ کے صدر کے درمیان ملاقات میں گرماگرمی
جنوبی افریقی صدر کے دفتر نے کہا کہ امریکا اجلاس میں شریک نہیں تھا، اس کے باوجود جی 20 صدارت کی دستاویزات امریکی سفارتخانے کے نمائندے کو باقاعدگی سے منتقل کر دی گئیں۔
حکومت نے واضح کیا کہ وہ جی 20 کی بانی اور فعال رکن کی حیثیت سے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا جنوبی افریقہ جی 20 صدر ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔