وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، سماجی اور ترقیاتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور وفاقی تعاون پر گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان حکومت کی پہلی یوتھ پالیسی، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا عزم

وفاق اور صوبوں کے مضبوط تعلقات کو قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے بین الصوبائی رابطوں کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ بھی موجود تھے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا مؤقف

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے حوالے سے گردش کرنے والی تبدیلی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ اتحادی حکومت صوبے کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ بلوچستان میں جاری میگا پراجیکٹس خوش آئند ہیں اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ صوبے کے عوام کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ وفاق اور بلوچستان کے مابین قریبی رابطہ کاری مستحکم ہونے سے عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بیان

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت، پارلیمانی خدمات اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی جانب سے بلوچستان کے قانون سازی کے عمل میں فراہم کیے جانے والے تعاون کو بھی سراہا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات، کیا یہ عوام کے لیے واقعی مفید ثابت ہوئے؟

ملاقات کے دوران میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ پارلیمان صوبوں کی مضبوط آواز ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی قومی یکجہتی کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

امن و امان کی صورتحال

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام اور سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بہادری اور ثابت قدمی سے نبردآزما ہیں اور امن و استحکام کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ ملاقات میں دونوں رہنماوں نے بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے مشترکہ تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مسلم لیگ ن کی حمایت

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی شیخ زرک مندوخیل نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اہم ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد گئے تھے۔

اس دورے کے دوران انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی شامل تھے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیاسی رجحانات اور حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا تھا۔

رکن بلوچستان اسمبلی شیخ زرک مندوخیل

علاوہ ازیں صوبائی کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں اور وزارتوں کی رد و بدل سے متعلق اہم گفتگو بھی کی گئی تاکہ حکومتی معاملات کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جا سکے۔

زرک مندوخیل نے واضح کیا کہ جہاں تک میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے تعاون کا تعلق ہے، اس بارے میں پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے تمام ایم پی ایز سرفراز بگٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں ان کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بلوچستان اسمبلی بلوچستان حکومت سرفراز بگٹی شیخ زرک مندوخیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بلوچستان اسمبلی بلوچستان حکومت سرفراز بگٹی شیخ زرک مندوخیل اسپیکر قومی اسمبلی بلوچستان اسمبلی سردار ایاز صادق سرفراز بگٹی زرک مندوخیل بلوچستان کی وزیر اعلی مسلم لیگ کی ترقی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیراعظم کا لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے، کمانڈر نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان