مسلم لیگ ن کا وزیر اعلیٰ بلوچستان سر فراز بگٹی کی سیاسی مشکلات میں ساتھ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، سماجی اور ترقیاتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح اور وفاقی تعاون پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان حکومت کی پہلی یوتھ پالیسی، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا عزم
وفاق اور صوبوں کے مضبوط تعلقات کو قومی یکجہتی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے بین الصوبائی رابطوں کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ بھی موجود تھے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا مؤقفاسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے حوالے سے گردش کرنے والی تبدیلی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ اتحادی حکومت صوبے کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ بلوچستان میں جاری میگا پراجیکٹس خوش آئند ہیں اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ صوبے کے عوام کے مسائل کا حل اولین ترجیح ہے۔ وفاق اور بلوچستان کے مابین قریبی رابطہ کاری مستحکم ہونے سے عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بیانوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی قیادت، پارلیمانی خدمات اور ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی جانب سے بلوچستان کے قانون سازی کے عمل میں فراہم کیے جانے والے تعاون کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات، کیا یہ عوام کے لیے واقعی مفید ثابت ہوئے؟
ملاقات کے دوران میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ پارلیمان صوبوں کی مضبوط آواز ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی قومی یکجہتی کو تقویت دی جا سکتی ہے۔
امن و امان کی صورتحالوزیر اعلیٰ بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام اور سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بہادری اور ثابت قدمی سے نبردآزما ہیں اور امن و استحکام کے لیے تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔ ملاقات میں دونوں رہنماوں نے بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے مشترکہ تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مسلم لیگ ن کی حمایتپاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی شیخ زرک مندوخیل نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اہم ملاقاتوں کے لیے اسلام آباد گئے تھے۔
اس دورے کے دوران انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں کیں جن میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی شامل تھے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، سیاسی رجحانات اور حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا تھا۔
علاوہ ازیں صوبائی کابینہ میں ممکنہ تبدیلیوں اور وزارتوں کی رد و بدل سے متعلق اہم گفتگو بھی کی گئی تاکہ حکومتی معاملات کو مزید مضبوط اور موثر بنایا جا سکے۔
زرک مندوخیل نے واضح کیا کہ جہاں تک میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے تعاون کا تعلق ہے، اس بارے میں پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے تمام ایم پی ایز سرفراز بگٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں ان کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بلوچستان اسمبلی بلوچستان حکومت سرفراز بگٹی شیخ زرک مندوخیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بلوچستان اسمبلی بلوچستان حکومت سرفراز بگٹی شیخ زرک مندوخیل اسپیکر قومی اسمبلی بلوچستان اسمبلی سردار ایاز صادق سرفراز بگٹی زرک مندوخیل بلوچستان کی وزیر اعلی مسلم لیگ کی ترقی کے لیے
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔