چیئرمین پی ٹی آئی کا مذاکرات میں ناکامی کا اعتراف، گیم اوور تو نہیں ہو گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی نے متعدد بار اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، اس کے علاؤہ سینیئر وفاقی وزرا بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، البتہ مذاکرات 2-3 نشستوں سے آگے نہ بڑھ سکے، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی نے حکومت سے مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کیں، مگر کوئی پیشرفت نہ ہوسکی، اب عمران خان نے مذاکرات کا اختیار نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان اڈیالہ جیل سے منتقل نہیں ہوئے نہ ہی ان کی صحت خراب ہے، رانا ثنااللہ
وی نیوز نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا اب پی ٹی آئی مذاکرات سے مایوس ہو چکی ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کے کسی بھی فوری امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ فریقین کسی مکالمے کی جانب بڑھیں۔
سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات سے اس لیے مایوس ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی کے مذاکرات کرنا چاہتی ہے، عمران خان صرف اسٹبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ میں اُس پر حملے بھی کرتے ہیں لیکن حکومت اور حکومتی جماعتوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ایسے میں مذاکرات کیسے بڑھ سکتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ واضح کر چکی ہے کہ ان کے سیاسی حکومت کی موجودگی میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کی اس لیے ضرورت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا سہیل آفریدی مفاہمت کے رستے پر چل پڑے، کتنا آگے جا سکیں گے؟
انصار عباسی نے کہا کہ مذاکرات سے انکاری عمران خان ہیں، وہ پارٹی رہنماؤں کو حکومت سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتے، ایسے حالات میں پی ٹی آئی کی لیڈرشب کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اگر پی ٹی آئی مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو عمران خان کو اسٹبلشمنٹ پر حملے بند کرنے ہوں گے اور دوسرا مذاکرات صرف موجودہ حکومت سے ہوں گی۔ لیکن یہ سب فی الحال عمران خان کو قبول نہیں اس لیے ان حالات میں بات چیت کی سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آئی کھل کر کہہ چکی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات چاہتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کی اپنی شرائط ہیں کہ پہلے پی ٹی آئی 9 مئی پر معافی مانگے اور پھر سیاسی جماعتوں سے دوبارہ مذاکرات کرے، اسٹیبلشمنٹ براہِ راست سیاسی مذاکرات نہیں کرتی، اس لیے پی ٹی آئی کو حکومت کے ذریعے ہی بات کرنی ہوگی لیکن یہ دروازہ تبھی کھلے گا جب پی ٹی آئی خود بھی اپنے بیانیے سے ایک قدم پیچھے ہٹے گی، لیکن فی الوقت پی ٹی آئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اور اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی پوزیشن پر قائم ہے، جس کے باعث یہ ڈیڈلاک برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرے گی، یہ بات طے ہوچکی، سلمان اکرم راجہ
ضیغم خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر بھی کچھ لوگ اور ان کے نئے اتحادی (جیسے تحریکِ تحفظِ آئین) سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے حامی ہیں، مگر جب وہ کوئی اقدام کرتے ہیں تو پی ٹی آئی اُن پر ناراضی کا اظہار کرتی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس سے حکومت اور دیگر جماعتوں کو سیاسی قوت ملے گی، موجودہ صورتِ حال میں دونوں طرف سے لچک نہ ہونے کے باعث ڈیڈلاک ٹوٹتا نظر نہیں آ رہا۔
سینیئر تجزیہ کار ماجد نظامی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے نہ ہونے کی دو بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں، پہلی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ ماحول میں حکومت پر کوئی مؤثر سیاسی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے کی کوئی مجبوری محسوس نہیں ہوتی۔
دوسری جانب آئینی ترمیم، قانون سازی، مخصوص نشستوں کے فیصلوں اور حالیہ سیاسی پیشرفت کے بعد حکومت کی اقتدار پر گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور اس وقت طاقت کے اس ماحول میں حکومت کو تمام جماعتوں کو ساتھ بٹھانے یا انہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
ماجد نظامی کے مطابق حکومت کو اس وقت نہ داخلی سطح پر کوئی بحران درپیش ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کی جانب سے ایسا دباؤ موجود ہے جو مذاکرات کے آغاز پر مجبور کرے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ قریب مستقبل میں حکومتی اور اپوزیشن جماعت کے درمیان مذاکرات کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انصار عباسی بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی حکومت ضیغم خان ماجد نظامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی حکومت کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی مذاکرات کے میں حکومت پی ٹی آئی سے گفتگو نہیں ہو چکی ہے اس لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم