مذاکرات کی بھرپور کوشش کی مگر بات نہ بنی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہرعلی خان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی نے حکومت سے مذاکرات کے لیے بھرپور کوششیں کیں، مگر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اب عمران خان نے مذاکرات کا اختیار نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں؟
ان کا مؤقف تھا کہ اس موقع پر مذاکرات ان دو رہنماؤں کا استحقاق ہے، تاہم اگر ان رہنماؤں نے مشورہ طلب کیا تو وہ ضرور اپنی رائے دیں گے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے ساتھ ان کا اتحاد موجود ہے اور تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے بشریٰ بی بی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی کوشش کررہی ہیں، گورنر کے پی
جمیعت علما اسلام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مولانا ایک زیرک سیاست دان ہیں، انہیں ساتھ ملانے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر وہ رضا مند نہیں ہوئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اب بھی امکان کم ہی ہے کہ مولانا ان کے ساتھ آئیں، تاہم پی ٹی آئی کی کوشش رہے گی کہ انہیں اعتماد میں لیا جائے۔
مزید پڑھیں: 22 نومبر کو عمران خان کی رہائی یقینی تھی، مگر ان کے نادان دوستوں نے ایسا نہیں ہونے دیا، مشاہد حسین سید کا انکشاف
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پارٹی 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی مخالفت کرتی ہے اور آزاد عدلیہ کے قیام کی خواہاں ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو سنائی گئی تھی اور جوڈیشل پالیسی کے تحت فیصلہ 35 دن میں ہونا چاہیے تھا، لیکن 10 ماہ سے زائد گزرنے کے باوجود ابھی تک کیس کی سماعت کی تاریخ مقرر نہیں ہوسکی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں آئینی ترامیم آزاد عدلیہ اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی تحریک تحفظ آئین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس محمود خان اچکزئی مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں آئینی ترامیم آزاد عدلیہ اپوزیشن لیڈر بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی تحریک تحفظ ا ئین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس محمود خان اچکزئی مذاکرات بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔