ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا، اب مذاکرات کا اختیار عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو دیا ہے، اگر انہوں نے مجھ سے مذاکرات سے متعلق مشورہ مانگا تو میں ضرور دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر کے ساتھ ہمارا الائنس ہے، ہم تحریک تحفظ پاکستان کے ذریعے ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مولانا زیرک سیاستدان ہیں ان کو شامل کرنے کے لیے بہت کوشش کی، مولانا ہمارے پاس نہیں آئے، میرا نہیں خیال کہ اب وہ ہمارے پاس آئیں گے تاہم ہم کوشش کریں گے ان کو آن بورڈ کریں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہیں اور آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو ہوئی، جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 دنوں میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا مگر 10 ماہ سے زیادہ ہوگئے اب تک ان کا کیس نہیں لگ سکا۔
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر بہت کوشش کی نے کہا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔