وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-8
پشاور (مانیٹر نگ ڈ یسک )خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ہر منگل کو اسلام آباد میں اراکین اسمبلی کے احتجاج اور 27 دسمبر کو پشاور میں بڑے جلسے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل افریدی نے پشاور میں دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے درد ناک اور غم ناک ہے، ہمارے پرامن کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور گولیا ماری گئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں پر تشدد پہلی بار نہیں ہو رہا ہے، کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ نہیں چاہتے پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو مفلوج کرکے رکھ دیا گیا ہے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر حق استعمال کرنا ہے، کچھ لوگ انتشار چاہتے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کو ہم پرامن تھے اور آئندہ بھی پرامن ہوں گے لیکن قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہر منگل کو ارکان اسمبلی اسلام آباد کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اڈیالہ جیل کے باہر بھی بیٹھیں گے، جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی ہر جمعرات کو اڈیالہ جیل جاؤں گا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 7 دسمبر کو پشاور میں جلسے کا اعلان کرتا ہوں، ہمیں معلوم ہے یہ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پشاور میں نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔