افغانستان کے عبوری وزیرِ تجارت الحاج نورالدین عزیزی بدھ کے روز اپنی پہلی باضابطہ بھارت یاترا پر نئی دہلی پہنچے، جہاں وہ معاشی تعاون بڑھانے، باہمی تجارت میں وسعت لانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب کابل اور پاکستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد افغانستان علاقائی متبادل تجارتی راستوں اور نئی اقتصادی شراکت داریوں کی تلاش میں ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق بھارت نے گزشتہ ماہ کابل میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ فعال کیا ہے، جو 2021 میں امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بند کردیا گیا تھا۔ سفارتی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ نئی دہلی افغانستان کے لیے امدادی اقدامات بھی تیز کر رہا ہے، جبکہ خطے میں اثر و رسوخ کے لیے چین کے ساتھ مقابلہ بھی جاری ہے۔

افغان وزارتِ تجارت کے مطابق عزیزی اپنے بھارتی ہم منصب، وزیرِ خارجہ اور مختلف بھارتی تاجر گروپوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان مذاکرات میں تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، اور افغانستان کو علاقائی ٹرانزٹ حب کے طور پر مستحکم بنانے جیسے نکات شامل ہوں گے۔

پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش اور گزشتہ ماہ ہونے والی جھڑپوں میں جانی نقصان کے بعد افغانستان کو گندم، ادویات اور صنعتی مصنوعات کی قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث اسے نئے تجارتی راستوں کی ضرورت پیش آئی ہے۔ وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں ایران کے ساتھ افغان تجارت 1.

6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اسی عرصے میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی 1.1 ارب ڈالر کی تجارت سے زیادہ ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر عزیزی کی آمد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

A warm welcome to Afghan Industry and Commerce Minister, Alhaj Nooruddin Azizi, on his official visit to India.

Advancing bilateral trade and investment ties is the key focus of the visit. pic.twitter.com/nE0kQSDqkF

— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) November 19, 2025


بھارت کی جانب سے ایران کی بندرگاہ چابہار کا استعمال افغانستان کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ نئی دہلی نے گزشتہ ماہ اس بندرگاہ کی سرگرمیوں کے لیے امریکہ سے چھ ماہ کی پابندیوں میں نرمی بھی حاصل کرلی، جس سے کابل کی کراچی بندرگاہ پر انحصار مزید کم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری نئی دہلی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی