WE News:
2026-06-03@05:58:01 GMT

جماعت اسلامی کا 3 روزہ ’بدل دو نظام‘ اجتماع  کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

جماعت اسلامی کا 3 روزہ ’بدل دو نظام‘ اجتماع  کیا ہے؟

’بدل دو نظام‘ پروگرام دراصل ایک ایسا ملک گیر اجتماع  ہے جو 21، 22 اور 23 نومبر 2025 کو لاہور کے مینار پاکستان گراؤنڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ پروگرام ’بدل دو نظام‘ کے نعرے کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ اسے ملک کے موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو تبدیل کرنے کی تحریک کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے، جہاں لاکھوں کارکن اور شہری اکٹھے ہو کر اتحاد، یکجہتی اور عدل و انصاف پر مبنی نئے نظام کا اعلان کریں گے۔

جماعت اسلامی پاکستان یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک بھر سے لاکھوں کارکنوں ’بدلو نظام‘ اجتماع کا حصہ بن رہے ہیں۔ اجتماع میں فلسطین اور کشمیر کی حمایت کے بھی واضح پیغامات دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے فارم 47 کی بنیاد پر حکومت بنے گی تو لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا، حافظ نعیم الرحمان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ یہ اجتماع محض ایک جلسہ نہیں بلکہ موجودہ ظالمانہ اور کرپٹ نظام کو بدلنے کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چند جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مافیاز کی جاگیر نہیں، یہ اللہ کی بنائی ہوئی قوم کا ملک ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف لے جایا جائے۔ ’بدلو نظام تحریک‘ اس لوٹ مار کا خاتمہ کرے گی۔

3 روزہ اجتماع میں کیا کیا ہوگا؟

21 نومبر  بروز جمعہ، اجتماع کا افتتاحی سیشن  ہوگا۔ ملک بھر سے قافلوں کا تاریخی   استقبال ہوگا، ملک کی جاری معاشی صورتحال پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا، اور نئے نظام کے حوالے سے قراداد منظور کروائی جائے گئی۔

22 نومبر کو تربیتی و فکری سیشنز، اسلامی نظامِ معیشت و سیاست پر لیکچرز، خواتین  نوجوانوں کے خصوصی اجلاس ہوں گے۔

اختتامی سیشن  23 نومبر کو ہوگا جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان، تحریک ’بدلو نظام‘ کا باقاعدہ آغاز اور قوم کے نام پیغام ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان خطاب کریں گے۔

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم کا کہنا تھا کہ ’بدلو نظام پروگرام‘ کا مطلب پرانے نظام  سے چھٹکارا ہے۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ایک عبوری ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ کہا گیا کہ جب تک پاکستان اپنا نیا نظام نہیں بنا لیتا تو یہ پرانے نظام اور قواعد چلتے رہیں گے لیکن ابھی تک پرانا نظام ہی رائج ہے جیسا کہ پولیس کا نظام، فوجداری نظام، عدالتی نظام، بیوروکریسی، تحصیل کا نظام۔آج بھی ہماری کتابوں میں لکھا جاتا ہے کہ یہ 1857 کا پروگرام ہے، اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم  کے ذریعے پرانے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے سب کو اپنی آئینی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا ورنہ انتشار بڑھے گا، حافظ نعیم الرحمان

ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ یہ اجتماع 1941 کی یاد تازہ کرے گا جب لاہور ہی میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر یہیں سے پاکستان کو عدل و انصاف، شفافیت اور اللہ کی حاکمیت والا نظام دینے کا اعلان  کیا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اجتماع مکمل پرامن اور آئینی دائرے میں ہو گا۔ اس کے بعد تحریک کا اگلا مرحلہ پورے پاکستان میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی پروگراموں پر مشتمل ہوگا۔

جماعت اسلامی کے اجتماع کی ٹائمنگ بہت اہم ہے

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سنئیر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق جماعت اسلامی کے اس اجتماع کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’بدلو نظام‘ ماٹو کے ساتھ جماعت اسلامی جو اجتماع کر رہی ہے کیا وہ نظام بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ نظام بدلنے کے لیے پارلمنٹ میں آنا پڑے گا۔ موجود صورتحال میں یہ ایک بڑی سیاسی مشق ضرور ہے۔ اس اجتماع کے اثرات بلدیاتی  انتخابات پر بھی ہوں گے۔ اس اجتماع کے ذریعے جماعت اسلامی  ریاست کو ٹارگٹ نہیں کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے کبھی بھی ریاست سے ٹکراؤ والی پالیسی اختیار نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا ’بنو قابل پروگرام‘ قابل ستائش ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وہ لاکھوں نوجوانوں کو آئی ٹی سے ہم آہنگ کر کے لوگوں کو وسائل مہیا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ایک مہذب سیاسی جماعت ہے، اس لیے یہ اجتماع کامیاب ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بدل دو نظام جماعت اسلامی اجتماع 2025 حافظ نعیم الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اجتماع 2025 حافظ نعیم الرحمان حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کے بدلو نظام نے کہا رہی ہے

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن