جماعت اسلامی کا 3 روزہ ’بدل دو نظام‘ اجتماع کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
’بدل دو نظام‘ پروگرام دراصل ایک ایسا ملک گیر اجتماع ہے جو 21، 22 اور 23 نومبر 2025 کو لاہور کے مینار پاکستان گراؤنڈ میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ پروگرام ’بدل دو نظام‘ کے نعرے کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ اسے ملک کے موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو تبدیل کرنے کی تحریک کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے، جہاں لاکھوں کارکن اور شہری اکٹھے ہو کر اتحاد، یکجہتی اور عدل و انصاف پر مبنی نئے نظام کا اعلان کریں گے۔
جماعت اسلامی پاکستان یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک بھر سے لاکھوں کارکنوں ’بدلو نظام‘ اجتماع کا حصہ بن رہے ہیں۔ اجتماع میں فلسطین اور کشمیر کی حمایت کے بھی واضح پیغامات دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے فارم 47 کی بنیاد پر حکومت بنے گی تو لوگوں کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ یہ اجتماع محض ایک جلسہ نہیں بلکہ موجودہ ظالمانہ اور کرپٹ نظام کو بدلنے کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چند جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مافیاز کی جاگیر نہیں، یہ اللہ کی بنائی ہوئی قوم کا ملک ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے نظامِ مصطفیٰ ﷺ کی طرف لے جایا جائے۔ ’بدلو نظام تحریک‘ اس لوٹ مار کا خاتمہ کرے گی۔
3 روزہ اجتماع میں کیا کیا ہوگا؟21 نومبر بروز جمعہ، اجتماع کا افتتاحی سیشن ہوگا۔ ملک بھر سے قافلوں کا تاریخی استقبال ہوگا، ملک کی جاری معاشی صورتحال پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا، اور نئے نظام کے حوالے سے قراداد منظور کروائی جائے گئی۔
22 نومبر کو تربیتی و فکری سیشنز، اسلامی نظامِ معیشت و سیاست پر لیکچرز، خواتین نوجوانوں کے خصوصی اجلاس ہوں گے۔
اختتامی سیشن 23 نومبر کو ہوگا جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان، تحریک ’بدلو نظام‘ کا باقاعدہ آغاز اور قوم کے نام پیغام ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان خطاب کریں گے۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم کا کہنا تھا کہ ’بدلو نظام پروگرام‘ کا مطلب پرانے نظام سے چھٹکارا ہے۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو ایک عبوری ایکٹ منظور کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ کہا گیا کہ جب تک پاکستان اپنا نیا نظام نہیں بنا لیتا تو یہ پرانے نظام اور قواعد چلتے رہیں گے لیکن ابھی تک پرانا نظام ہی رائج ہے جیسا کہ پولیس کا نظام، فوجداری نظام، عدالتی نظام، بیوروکریسی، تحصیل کا نظام۔آج بھی ہماری کتابوں میں لکھا جاتا ہے کہ یہ 1857 کا پروگرام ہے، اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے پرانے نظام کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سب کو اپنی آئینی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا ورنہ انتشار بڑھے گا، حافظ نعیم الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ یہ اجتماع 1941 کی یاد تازہ کرے گا جب لاہور ہی میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر یہیں سے پاکستان کو عدل و انصاف، شفافیت اور اللہ کی حاکمیت والا نظام دینے کا اعلان کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اجتماع مکمل پرامن اور آئینی دائرے میں ہو گا۔ اس کے بعد تحریک کا اگلا مرحلہ پورے پاکستان میں عوامی رابطہ مہم اور احتجاجی پروگراموں پر مشتمل ہوگا۔
جماعت اسلامی کے اجتماع کی ٹائمنگ بہت اہم ہےوی نیوز سے بات کرتے ہوئے سنئیر تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق جماعت اسلامی کے اس اجتماع کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’بدلو نظام‘ ماٹو کے ساتھ جماعت اسلامی جو اجتماع کر رہی ہے کیا وہ نظام بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ نظام بدلنے کے لیے پارلمنٹ میں آنا پڑے گا۔ موجود صورتحال میں یہ ایک بڑی سیاسی مشق ضرور ہے۔ اس اجتماع کے اثرات بلدیاتی انتخابات پر بھی ہوں گے۔ اس اجتماع کے ذریعے جماعت اسلامی ریاست کو ٹارگٹ نہیں کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے کبھی بھی ریاست سے ٹکراؤ والی پالیسی اختیار نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا ’بنو قابل پروگرام‘ قابل ستائش ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے وہ لاکھوں نوجوانوں کو آئی ٹی سے ہم آہنگ کر کے لوگوں کو وسائل مہیا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی ایک مہذب سیاسی جماعت ہے، اس لیے یہ اجتماع کامیاب ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بدل دو نظام جماعت اسلامی اجتماع 2025 حافظ نعیم الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اجتماع 2025 حافظ نعیم الرحمان حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کے بدلو نظام نے کہا رہی ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔