ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا: چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا، اب مذاکرات کا اختیار عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو دیا ہے، اگر انہوں نے مجھ سے مذاکرات سے متعلق مشورہ مانگا تو میں ضرور دوں گا۔انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر کے ساتھ ہمارا الائنس ہے، ہم تحریک تحفظ پاکستان کے ذریعے ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مولانا زیرک سیاستدان ہیں ان کو شامل کرنے کے لیے بہت کوشش کی، مولانا ہمارے پاس نہیں آئے، میرا نہیں خیال کہ اب وہ ہمارے پاس آئیں گے تاہم ہم کوشش کریں گے ان کو آن بورڈ کریں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہیں اور آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو ہوئی، جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 دنوں میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا مگر 10 ماہ سے زیادہ ہوگئے اب تک ان کا کیس نہیں لگ سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بہت کوشش کی نے کہا
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔