ایثار اوراسوۂ صحابہ رضی اللہ عنہم
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اثیار کے جذبے کو ہم صحابہ کرامؓ کی زندگی میں بدرجہ اتم دیکھ سکتے ہیں، انھوں نے اسے اپنی زندگی کا وصف لازم قراردیا تھا۔
جنگ یرموک میں سیدنا عکرمہ، حارث بن ہشام اور سہیل بن عمروؓ زخم کھا کر زمین پر گرے اور اس حالت میں عکرمہؓ نے پانی مانگا، پانی آیا تو دیکھا کہ سہیلؓ پانی کی طرف دیکھ رہے ہیں، بولے: پہلے ان کو پلاآؤ۔ سہیلؓ کے پاس پانی آیا تو انھوں نے دیکھا کہ حارثؓ کی نگاہ بھی پانی کی طرف ہے، بولے: ان کو پلاؤ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کسی کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ نہ گیا اور سب نے تشنہ کامی کی حالت میں جان دی۔
اگر کوئی ہم سے ہماری محبوب چیز مانگ لے تو کیا ہم دے سکتے ہیں؟ بسا اوقات ایک چیز کئی لوگوں کو پسند ہوتی ہے، جسے حاصل کرنا اپنا مقصد بنالیتے ہیں، کبھی کبھی وہ چیز انا کا مسئلہ بن جاتی ہے اور قتل وخوںریزی تک نوبت آجاتی ہے۔ یہاں انسان کے ایثار کا امتحان ہوتا ہے۔ صحابہؓ کے ایثار کی ایک نمایاں مثال یہ بھی ہے کہ حجرۂ عائشہؓ میں اللہ کے رسولؐ اور سیدنا ابوبکرؓ کی تدفین کے بعد صرف ایک قبر کی جگہ بچی تھی۔ سیدہ عائشہؓ نے اسے اپنے لیے خاص کر رکھا تھا، لیکن جب سیدنا عمرؓ نے ان سے وہ جگہ مانگ لی، تو انھوں نے ایثار سے کام لیتے ہوئے وہ جگہ ان کی تدفین کے لیے دے دی۔ سیدہ عائشہؓ خود بیان فرماتی ہیں:
میں نے خود اپنے لیے اس کو محفوظ رکھا تھا، لیکن آج اپنے اوپر آپ کو ترجیح دیتی ہوں (بخاری)۔
سیدہ عائشہؓ کا ایک اور سبق آموز واقعہ خواتین کے لیے بے حد موثر ہے:
ایک مسکین نے سیدہ عائشہؓ سے کوئی چیز مانگی جب کہ آپؓ روزے سے تھیں اور سوائے روٹی کے گھر میں کچھ نہ تھا، آپ نے خادمہ سے کہا کہ یہ روٹی اسی کو دے دو۔ خادمہ نے کہا کہ اس کے علاوہ گھر میں کچھ نہیں ہے، آپ افطار کریں گی؟ پھر بھی آپ نے یہی فرمایا کہ یہ اسے ہی دے دو۔ چنانچہ خادمہ نے اس کو یہ روٹی دے دی۔ شام کے وقت ان کے پاس ایک بکری کا پکا ہوا سالن ہدیے کے طور پر آیا۔ تو عائشہؓ نے اس سے فرمایا کہ اس سے کھاؤ یہ اس ٹکڑے سے بہتر ہے (بیہقی شعب الایمان ،فصل :ایثار)۔
جذبہ ایثار اسلامی معاشرے کی ممتاز خصوصیت تھی۔ صحابہ کرامؓ نے ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد اور ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے، انھیں خود پر ترجیح دی۔ اس بنا پر قرآن نے انھیں رحماء بینہم کا اعزاز بخشا ہے۔ چند واقعات درج ذیل ہیں:
ایک مرتبہ سیدنا عمر بن الخطابؓ نے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا: ایک شخص نے ایک بکری کا سر ہدیے کے طور پر کسی کے گھر بھجوایا۔ جس کو دیا گیا اس نے کہا کہ اسے میرے فلاں بھائی کو دے دو کہ وہ مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہے، جس شخص کے پاس اسے بھجوایا گیا۔ اس نے اسے دوسرے کے گھر بھجوادیا۔ اس طرح وہ مسلسل سات گھروں سے منتقل ہوتا ہوا دوبارہ اس پہلے شخص کے پاس پہنچ گیا (بیہقی شعب الایمان، فصل: ایثار)
ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ نے چار سو دینار سے بھری ہوئی تھیلی اپنے غلام کو دیتے ہوئے فرمایا کہ اسے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراحؓ کے پاس لے جاؤ، پھر وہیں کچھ دیر رکے رہو تاکہ تم دیکھ سکو کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراحؓ نے پہلے تو دعا دی، پھر تھیلی لی اور اپنی باندی کو بلا کر کہا کہ اس تھیلی سے سات دینار فلاں کو دے آؤ، پانچ فلاں کو، حتی کہ سارا مال تقسیم کردیا، اپنے لیے کچھ نہ رکھا۔ اسی مقدار کے دینار سیدنا عمرؓ نے سیدنا معاذ بن جبلؓ کو بھی روانہ کیے۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا کہ ابوعبیدہؓ نے کیا تھا۔ معاذؓ کی بیوی نے ان سے کہا کہ بخدا ہم بھی مسکین ہیں۔ کچھ تو روک لیجیے، اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار بچے تھے، سو ان کو دے دیے۔ غلام نے حکم کے مطابق آکر واقعے کی تفصیلی خبر دی تو عمرؓ اس سے بے انتہا خوش ہوئے۔
انسان کسی کو کوئی قرض دیتا ہے تو پھر وہ اس کا حق ہے کہ وہ ایک وقت متعینہ پر اسے وصول کرلے، اگر مقروض مجبوری یا تنگ دستی کی وجہ سے ادا نہیں کرپا رہا ہے تو اسے مہلت دی جانی چاہیے۔ بہر صورت قرض ایک حق ہے، جسے دینے والا وصول کرسکتا ہے۔ اگر معاف کردے تو یہ ایثار کی ایک بڑی مثال ہوگی۔ ایسا ہی ایک واقعہ قیس بن سعد بن عبادہؓ کا ہے، جو فیاضی میں کافی مشہور تھے۔
جب آپؓ بیمار ہوئے تو لوگوں کی ایک بڑی جماعت آپ کی عیادت کو نہیں آئی، وجہ معلوم کی گئی تو پتا چلا کہ وہ آپ سے لیے گئے قرض کی ادائی نہ ہونے کے باعث شرمندگی کے سبب نہ آسکے۔ تو قیسؓ نے فرمایا کہ اللہ کی رسوائی ہو ایسے مال پر جو لوگوں کو ملاقات سے روک دے۔ پھر آپ نے یہ اعلان کروا دیا کہ جن لوگوں پر ان کا قرض ہے وہ سب معاف ہے (مدارج السالکین)
ایثار زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے۔ اس وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ یہ جس طرح مامورین کے لیے ضروری ہے، اسی طرح صاحب امر کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک قائد بسا اوقات بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ رعایا کو ایثار اور ہمدردی سے کام لینا چاہیے، لیکن خود اس کا رویہ اس کے برعکس ہوتا ہے وہ خود کسی قسم کی قربانی اور ایثار کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس کی عملی زندگی اس کی باتوں کی تردید کرتی ہے۔ چنانچہ اس کی بات میں کوئی تاثیر نہیں ہوتی۔ دوسری طرف عوام اپنے قائدین سے ایثار کی توقع رکھتے ہیں مگر خود ان کی زندگی اس سے عاری ہوتی ہے۔
جب تک ایثار کی کیفیت تمام افراد میں پیدا نہ ہوگی اس وقت تک شر وفساد کا ماحول نہیں بدل سکتا نہ بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔ بلکہ خودغرضی کی آگ تیز ہوتی چلی جائے گی جس سے سماج جھلستا رہے گا۔ ایثار ہی وہ پانی ہے جو اس آگ کو بجھا سکتا ہے۔
محب اللہ قاسمی
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فرمایا کہ ایثار کی انھوں نے کہا کہ کے لیے کے پاس
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔