پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں غیر متعلقہ اجتماعات کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت عالیہ نے سرکاری اداروں کے اطراف میں سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے، فیصلے کے مطابق تعلیمی اداروں، سرکاری مقامات اور انتظامیہ اداروں کے احاطے میں سیاسی اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کے احاطے کے استعمال کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا ان اداروں کا سیاسی استعمال روکنے کو یقینی بنایا جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کا قیام کسی خاص مقصد کے لئے کیا جاتا ہے جب کہ غیر متعلقہ اجتماعات اداروں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، اس لئے ان کی روک تھام ضروری ہے، عدالت نے ہدایت جاری کی کہ تعلیمی اور دیگر سرکاری اداروں کے ذمہ داران غیر متعلقہ اجتماعات کی ہر صورت روک تھام کو یقینی بنائیں۔قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے اور خیبرپختونخوا میں غیر قانونی اجتماعات سے سرکاری امور اور تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں سرکاری اداروں اداروں کے

پڑھیں:

الیکشن کمیشن نےپی ٹی آئی پر پابندی کیسے لگائی؟ بیرسٹر گوہر

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلے گا، کچھ فارم 47 والے چاہتے ہیں ملک کے حالات اچھے نہ ہوں، چیئرمین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سوال کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پی ٹی آئی پر کیسے پابندی لگائی گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی کے بارے میں ابھی تک الیکشن کمیشن نے ہمیں کوئی سرٹیفکیٹ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی سرٹیفیکٹ جاری نہیں ہوا تو پھر الیکشن کمیشن نے کیسے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کردی۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ پی ٹی آئی بلوچستان نے لوکل گورنمنٹ انتخابات کے لیے اپنا کوئی امیدوار میدان میں نہیں اتارا جبکہ ہم نے الیکشنز میں سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگانے سے کام نہیں چلے گا، دو سال بعد بھی ہم اگر نو مئی پر کھڑے ہین تو یہ ملک کے لیے بد قسمتی کی بات ہے کیونکہ 25 کروڑ عوام ایوان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور انہیں بہتری کی امید بھی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات پر کوئی بھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے، سیاسی اور جمہوری قوتیں بات چیت کرتی ہیں تو حالات بہتر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ نے عالمی جنگیں لڑیں ،مگر آج یورپ میں ایک ہی کرنسی اور پاسپورٹ ہے، مگر کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں، کچھ فارم 47 والے بھی نہیں چاہتے کہ حالات بہتری کی طرف جائیں۔

بیسٹر گوہر نے کہا کہ بہت وقت سے ایک دوسرے پر الزام لگائے جارہے ہیں اب اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور سیاست میں ہمیشہ دروازے کھے رکھنے چاہیئیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا کا مقدمہ اڈیالہ میں نہیں سرکاری اداروں میں لڑیں، گورنر کا وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو مشورہ
  • بانی پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد پنجاب اسمبلی سے منظور
  • اداروں کیخلاف بیان بازی کرنے والی سیاسی جماعت پر پابندی کی قرارداد منظور
  • اداروں کیخلاف بیان بازی کرنے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی کی قرارداد منظور
  • وزیراعلیٰ پنجاب کی تعلیمی اداروں میں فرضی مشقیں کرانے کی ہدایت
  • پنجاب میں تمام تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کے احکامات
  • وزیراعلیٰ پنجاب، تعلیمی اداروں کے باہر ڈیجیٹل نگرانی، کیمروں کی تنصیب کا حکم
  • الیکشن کمیشن نےپی ٹی آئی پر پابندی کیسے لگائی؟ بیرسٹر گوہر
  • سندھ حکومت نےIFFED سے 10 ملین ڈالر کی گرانٹ حاصل کرلی
  • پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بناؤں گی، مریم نواز کا تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کا حکم