سرکاری و تعلیمی اداروں کے احاطے و اطراف میں سیاسی جلسوں اور اجتماعات پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں غیر متعلقہ اجتماعات کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت عالیہ نے سرکاری اداروں کے اطراف میں سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے، فیصلے کے مطابق تعلیمی اداروں، سرکاری مقامات اور انتظامیہ اداروں کے احاطے میں سیاسی اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کے احاطے کے استعمال کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا ان اداروں کا سیاسی استعمال روکنے کو یقینی بنایا جائے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کا قیام کسی خاص مقصد کے لئے کیا جاتا ہے جب کہ غیر متعلقہ اجتماعات اداروں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، اس لئے ان کی روک تھام ضروری ہے، عدالت نے ہدایت جاری کی کہ تعلیمی اور دیگر سرکاری اداروں کے ذمہ داران غیر متعلقہ اجتماعات کی ہر صورت روک تھام کو یقینی بنائیں۔قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے اور خیبرپختونخوا میں غیر قانونی اجتماعات سے سرکاری امور اور تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں سرکاری اداروں اداروں کے
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔