دھند کے باعث تعلیمی اداروں کے اوقات کار میں تبدیلی، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
شدید دھند اور گہری اسموگ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اوقات کار تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے جاری کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اب ضلع بھر کے اسکول صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کھلیں گے، جبکہ جمعہ کے روز اسکول صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’بچوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عوامی مفاد میں کیا گیا ہے‘۔
گزشتہ روز دھند کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے یہ اقدام اٹھایا۔
چارسدہ میں ایک روز قبل اسکول وین اور ٹرک میں تصادم ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 2 بچے جاں بحق جبکہ 21 زخمی ہوگئے تھے۔ حادثے کی بنیادی وجہ گھنی دھند اور حدِ نگاہ میں کمی بتائی گئی۔
بلوچستان میں سرد علاقوں کے اسکول طویل تعطیلات کے لیے بنددوسری جانب بلوچستان کے سرد علاقوں میں سردی کی شدت کے پیشِ نظر 16 دسمبر سے ڈھائی ماہ کے لیے سرکاری اسکول بند رہیں گے۔
صوبائی شیڈول کے مطابق:
موسمِ سرما کی تعطیلات: 23 دسمبر 2025 تا 11 جنوری 2026
اسکولوں کا دوبارہ آغاز: 13 جنوری 2026
اسی روز نئے تعلیمی سیشن کا آغاز بھی ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان خیبر پختونخوا ضلع چارسدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان خیبر پختونخوا ضلع چارسدہ کے لیے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔