بھارتی دہشت گردی کا انکشاف: مکتی باہنی ْآپریشن جیک پاٹٗ کے خونی منصوبے بےنقاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
مشرقی پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا انکشاف، مکتی باہنی کے نام نہاد ’’آپریشن جیک پاٹ‘‘ کے خونی منصوبے بے نقاب ہو گئے۔
تاریخ ایک بار پھر اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے کہ بھارت نے ہمیشہ خطے میں دہشت گردی کے فروغ اور عدم استحکام میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، 1971 کی جنگ سے قبل بھارت اور اس کے سرپرست دہشت گرد گروہ مکتی باہنی کی جانب سے مشرقی پاکستان میں باضابطہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جسے بعدازاں “آپریشن جیک پاٹ” کا نام دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق فروری 1971 سے بھارت نے مشرقی پاکستان میں منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کیں جبکہ 15 اگست 1971 کو اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے “آپریشن جیک پاٹ” باقاعدہ لانچ کیا گیا۔
اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو ہدایت دی کہ مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو مکمل پناہ، اسلحہ اور عسکری تربیت فراہم کی جائے، اس سہولت کاری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو مشرقی پاکستان بھیجا گیا جہاں انہوں نے محب وطن پاکستانیوں پر سفاکانہ حملے کیے، درجنوں شہادتیں ہوئیں اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور مکتی باہنی کی یہ مشترکہ دہشت گردانہ مہم 1971 کی جنگ کے پس منظر میں ایک طویل، منظم اور مذموم سازش کا حصہ تھی جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا اور مشرقی پاکستان میں انتشار کو ہوا دینا تھا۔
“آپریشن جیک پاٹ” کو بھارت اور مکتی باہنی نے مشترکہ دہشت گردی کے منصوبے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جبکہ درحقیقت یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں بدترین مداخلت اور ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال تھا، مزید تاریخی شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت کی یہ کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔